بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفر میں وطن اقا مت پہنچنے سے پہلے دس دن قیام کرنا


سوال

جب فوجی جوان سفر شرعی کی مقدار ڈیوٹی پر جاتے ہیں  اور ان کو حکم ہوتا ہے  کہ اپنے یونٹ پہنچنے  سے پہلے کسی سرکاری جگہ پر دس دن قرنطینہ گزاریں ۔ تو وہ دس دن قصرنماز ادا کر یں یا پوری ؟ عام طور پر ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جس کے ماتحت تین چار چھوٹے یونٹ ہوتے ہیں  جو کہ چار پانچ سو کلومیٹر میں ڈیوٹی دیتے ہیں ہر فرد کے کوائف ایک مخصوص یونٹ میں ہوتے ہیں جس کے لئے وہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔1۔ جب یہ مختلف یونٹوں کے افرادکسی ایک جگہ دس دن قرنطینہ گزارتے ہیں  تو وہ پوری نماز ادا کر یں گے یا قصر؟ 2۔ جن کا یونٹ قرنطینہ کے قریب ہوتا ہے ۔ وہ پوری نماز ادا کر یں یاسفری؟ 3۔ جوافراداپنے  یونٹ سے گزرکر قرنطینہ جاتے ہے وہ کس طرح نماز ادا کر یں؟

جواب

               واضح رہے کہ  جہاں آدمی پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت سے عارضی رہائش اختیار کرے تو اسے وطن اقامت کہتے  ہیں۔ وطن اقامت میں پوری نماز ادا کی جائے گی ،اسی طرح  جس شہر یا بستی میں جاناہو اس  کی آبادی جہاں سے شروع ہوتی ہے اعتبار اسی جگہ کا کیا جاتا ہےچنانچہ  اگر کوئی شخص کسی جگہ  سفر کرتے ہوئے آئے اور یہاں اس نے 15دن سے زیادہ رہنے کا عزم کیا ہو ،تو اس شہر کی آبادی میں داخل ہوتے ہی  قصر نماز کا حکم ختم ہوجائے گا اور اسے پوری نماز پڑھنی ہوگی، اگرچہ وہ اپنی مقررہ جگہ تک نہ پہنچا ہو جس میں اس نے قیام کرنا ہے  ۔ یہی حکم اس وقت بھی ہوتا ہے کہ جب آدمی سفر سے واپس اپنے شہر آتا ہے، تو اپنے شہر کی آبادی میں داخل ہوتے ہی قصر کا حکم ختم ہو جاتا ہے ،اگرچہ وہ اپنے گھر نہ پہنچا ہو۔

1۔اگر  فوجی جوان   یونٹ میں  پندرہ دن کی اقامت کی نیت  رکھتا ہولیکن راستے میں دس  دن قرنطینہ گزارتا ہو تو ایسی صورت میں یونٹ جہاں ہے اس جگہ  کی  آباد ی کے حدود  میں داخل ہو کر اگر قرنطینہ کرتا ہو تو پوری نماز پڑھے گا اور اگر اس آبادی میں داخلہ سے پہلے پہلے کسی اور جگہ ٹھہر کر پندرہ دن سے کم قرنطینہ کرتا ہو اور اپنے وطن اصلی سے سفر شرعی کی مسافت پر ہو تو قصر کرے گا ۔

2۔جن  افراد کا یونٹ قر نطینہ کے  اس طرح قریب ہو  کہ  دونوں مقامات  ایک شہر یا گاؤں کے حدود میں داخل ہوں تو ایسی صورت میں اگر قرنطینہ اور  یونٹ میں گزارنے کے دن 15 یا زائد ہوں تو پوری نماز ادا کرےگا البتہ اگر یہ دونوں  ایک  شہر یا گا ؤں  کے حدود میں داخل نہ ہوں توقصر کرے گا ۔

3۔ اگر اپنے یو نٹ میں سے گزر کر قرنطینہ کرتا ہو تو ایسی صورت میں اگر اپنے یونٹ میں پندرہ دن کا قیام نہ کیا ہو تو یونٹ اور قرنطینہ دونوں میں مسافر شمار ہو کر قصر کرے گا البتہ اگر پہلے سے اپنے یونٹ میں 15 دن کا قیام کیا ہو اوریونٹ اس کا وطن  اقامت بن چکا ہو تو ایسی صورت میں یونٹ اور قرنطینہ کی جگہ  کے ما بین اگر   سفر شرعی نہ ہو تو پوری نماز پڑھے گا۔

 

وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين " لأن الإقامة تتعلق بدخولها فيتعلق السفر بالخروج عنها وفيه الأثر عن علي رضي الله عنه لو جاوزنا هذا الخص لقصرنا " ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر ۔(الهداية،باب صلاة المسافر،ج:1،ص:80)

إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما۔(بدائع الصنائع، فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما،ج:1،ص:98)

" المفيد "، و" التحفة ": المقيم إذا نوى السفر ومشى أو ركب لا يصير مسافرا ما لم يخرج عن عمران المصر۔(البناية،فرض المسافر في الرباعية،ج:3،ص:15)


فتویٰ نمبر : 9100/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں