بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/08/2026 |
دارالافتاء
وطن اصلی کا باطل ہونا
سوال
ایک شخص کا وطن اصلی کرک ہے ،لیکن اب اس نے بیوی بچوں سمیت فیصل آباد میں مستقل طور پر رہائش اختیار کی ہے اور کرک میں اپنے ذاتی گھر کے علاوہ باقی جائیداد فروخت کر کے دوبارہ کرک میں رہنے کا عزم نہیں ہے ، البتہ ذاتی گھر اس لیے چھوڑا ہے کہ کرک میں غمی یا خوشی کے موقع پر اس میں چند دن کے لیے رہے گااب کرک اس کا وطن اصلی باقی رہا ہے یا نہیں ؟نیز یہ شخص فیصل آباد سے براستہ کرک کسی دوست کے ہاں ایک ہفتہ کے لیے لکی مروت چلا گیا اب یہ شخص لکی مروت میں قصر نماز پڑھے گا یا اتمام حا لانکہ کرک اور لکی مروت کے درمیان مسافت شرعی نہیں ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص بمع اہل وعیال وطن اصلی کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرے اور آئندہ پرانے وطن میں نہ آنے کا عزم کرے تو جائیداد اور رشتہ دار کے ہوتے ہوئےاس شخص کا وطن اصلی باطل ہو جاتا ہے اور دوسرا علاقہ جہا ں پر اس نے مستقل رہائش اختیار کی ہو وہ وطن اصلی کہلاتا ہے ، لہذاجب کسی کام کے سلسلہ میں اپنے پرانے علاقےکوآجائے اور اس کی نیت پندرہ دن سے کم ٹھرنےکی ہوتوشرعی مسافر شمار ہوکر قصر نماز پڑھے گا، تاہم دونوں علاقوں کے درمیان شرعی سفرکا ہونا ضروری ہےاوراگردونوں علاقوں کے درمیان فاصلہ شرعی سفر سے کم ہو تو دونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھے گا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کرک کے رہائشی نے فیصل آباد میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مستقل طور پرسکونت اختیار کر کے آئندہ کرک میں نہ رہنے کا عزم کرلیا ہو اگرچہ کرک میں اس شخص کا صرف ذاتی گھر ہو تا کہ غمی و خوشی کے موقع پر آکر چند دن اس میں رہ سکے تو اگر اس کی نیت کرک میں پندرہ دن سے کم ٹھرنے کی ہو تو یہ شخص مسافر شمار ہو کر قصر نماز ادا کرے گا اسی طرح اگر یہ شخص فیصل آباد سے براستہ کرک کسی دوست کے پا س ایک ہفتہ کی نیت سے لکی مروت آجائے تو وہا ں پر بھی مسافرشمار ہوکر قصر نماز ادا کرے گا۔
والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم۔۔۔ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له؛ لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له۔(البحرالرائق ، كتاب الصلاة ، باب المسافر ،ج:2،ص:239)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں