بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

فرض اور نفل نماز میں تکرار فاتحہ کا حکم


سوال

نفل اور فرض نماز میں سورۃ فاتحہ  کا تکرار  کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ قصداًوعمدا  ًسورہ فاتحہ کے تکرار سے نفل نماز پر کوئی اثر نہیں پڑھتا ،چاہے نصف سورۃ فاتحہ سے کم پڑھ لیا ہویا         زیادہ،اورفرض نماز میں  اگر نسیانا  نصف یا نصف سے زیادہ پڑھ لیا  تو اس صورت  میں سجدہ سہوہ  واجب ہو گااور اگر قصدا ًپڑھ لیا ہو تو گناہ گار ہوگا اور نماز کا اعادہ بھی  اس پر واجب ہوگا۔

 

ويكره تكرار السورة في ركعة واحدة في الفرائض ولا بأس بذلك في التطوع ۔(الفتاوي الهندية ، كتاب الصلاة ،الفصل الثاني في ما يكره في الصلاة و ما لا يكره،ج:1،ص:166)      

يجب سجدتان بتشهد وتسليم لترك واجب سهوا وإن تكرر، وإن كان تركه عمدا أثم ووجب إعادة الصلاة لجبر نقصها ۔(المراقي الفلاح ، كتاب الصلاة ،باب سجود السهو ،ص:274)

أن تكرار الفاتحة في الأوليين يوجب السهو ويمكن أن يقال: إن التكرار لم يوجب بل ترك السورة فإنها تجب أن تلي الفاتحة وينبغي أن يقيد ذلك بالفرائض لأن تكرار الفاتحة في النوافل لم يكره كما في القهستاني۔(مجمع الأنهرفي شرح ملتقي الأبحر،كتاب الصلاة،باب سجود السهو،ج:1،ص:148)


فتویٰ نمبر : 9104/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں