بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں درس قرآن


سوال

کیا مسجد میں درس قرآن دینا    تبلیغ میں شامل ہے  اور کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں  تبلیغ  کیا کرتے تھے؟

جواب

            واضح رہے کہ مسجد بنیادی طور پر دینی احکامات کی ادائیگی کےلیے تعمیر کی جاتی ہے جس میں نماز باجماعت کے ساتھ ساتھ دیگر دینی امور بھی سرانجام دیے جاتے ہیں  چنانچہ قرآن پاک کے درس اور وعظ و نصیحت وغیرہ کےلیے مجلس قائم کرنا  مسجد کے مقصد کے خلاف نہیں،اور یہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور ان کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین  کے زمانہ میں جاری رہا ہے مختلف موقعوں  پر جب بھی انہوں نے ضرورت محسوس کی تو وعظ ونصیحت اور علمی مجالس  قائم کیے،چنانچہ درس قرآن اور تبلیغی امور کی انجام دہی سب دینی امور سے تعلق رکھتے  ہیں اس لیے  مسجد میں ايسی مجالس قائم کرنا جائز ہے۔

 

عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العرباض بن سارية، قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح ثم أقبل علينا بوجهه فوعظنا موعظة بليغة فذكر نحوه.(سنن ابن ماجه،باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين،ج:1،ص:17)

عن سمرة بن جندب، قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا صلى صلاة أقبل علينا بوجهه».(صحيح البخاري،باب يستقبل الامام الناس إذا سلم،ج:1،ص:168)

عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «القرآن أحب إلى الله من السماوات والأرض ومن فيهن» (سنن الدارمي،باب:فضل كلام الله على سائر الكلام،ج:4،ص:2115)

أما للتدريس أو للتذكير فلا لأنه ما بني له وإن جاز فيه ولا يجوز التعليم في دكان في فناء المسجد عند أبي حنيفة وعندهما يجوز إذا لم يضر بالعامة.(البحر الرائق،فصل استقبال القبلة بالفرج في الخلاء،ج:2،ص؛38)


فتویٰ نمبر : 9135/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں