بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
زوجہ مفقود الخبر کا حکم
سوال
ایک خاتون کا شوہر 2009ء سے لاپتہ ہے، بہت تلاش کیا ہے ،ان دنوں شیعہ سنی فسادات تھے تو گھروالوں نے کچھ شیعوں پر ایف آئی آر(F.I.R) درج کی اور اِس میں تین شیعوں کو گرفتار بھی کیا گیا جنہیں چند ماہ جیل میں رکھ کر تفتیش کی گئی لیکن بعدمیں وہ بری ہو گئے، اِس کے بعد معاملہ عدالت میں گیا جہاں سالوں یہ کیس چلتا رہا لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکا اور بعد میں کیس ختم ہو گیا ، اِس کے خاتون کا کچھ سالوں بعد نان نفقہ پر اپنے سسرال والوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس میں معاملہ جرگے میں گیا اور جرگے والوں نے اِس خاتون کے تین دیوروں پر تین تین ہزارماہانہ نفقہ مقرر کیا جو کہ ایک سال گزر گیا لیکن اِس خاتون کو نہیں دیا گیا، جب خاتون کے لیے گزارا مشکل ہو گیا تو اِس نے عدالت سے رجوع کی اور عدالت میں بڑے دیور کے ساتھ نکاح کرنے کا کہا لیکن خاتون کے گھر والوں نے کہا اگر چھوٹے دیور سے نکاح ہو تو ٹھیک ہےلیکن وہ اِس پر نہیں مانے، نتیجۃً عدالت نےساڑھے پانچ ماہ مقدمہ چلنے کے بعداِس عورت کو طلاق نامہ جاری کر دیا اور چھ ماہ انتظار کرنے کا کہا کہ اگر اِس دوران شوہر واپس نہ آیا تو یہ خاتون دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، اب اِس کے شوہر کا چھوٹا بھائی اِس خاتون سے نکاح کے لیے تیار ہے اگر شرعا جائز ہو۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اِس خاتون کا مقررہ مدت گزارنے کے بعد شوہر کے چھوٹے بھائی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جس عورت کا شوہر ایسا گم ہو جائے کہ بالکل زندگی اور موت کا پتہ ہی نہ چلے اور اِس سے مزید انتظار اور صبر نہ ہوتاہوتو ایسی مجبوری میں اِمام مالکؒ کے مذہب کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ عورت مسلمان حاکم کی عدالت میں دعوی دائر کرے اور گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ فلاں شخص اِس کا شوہر ہے، پھر گواہوں ہی کے ذریعے اِس کا لاپتہ ہونا بھی ثابت کرے ، اِس تمام کاروائی کے بعد قاضی ہر ممکن صورت سے اِس شخص کی تفتیش و تلاش کروائے، جب قاضی اِس شخص کے ملنے سے بالکل ناامید ہو جائے تو عورت کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دے، اگر اِن چار سالوں میں شوہر آجائے تو بہت خوب، ورنہ مدت پوری ہونے پر عورت دوبارہ عدالت میں درخواست پیش کرے جس پر قاضی شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے، اِس کے بعد عورت چار ماہ دس دِن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو اِس کے لیے قاضی کے فیصلے میں مزید چار سال کے انتظار کاحکم دیا جانا اِس صورت میں ہے جب کہ اِس عورت کو عفت اور پاک دامنی کے ساتھ یہ چار سال گزارنے کی قدرت ہو اور اِسی طرح اِس مدت میں اِس کے لیے نان و نفقہ کا بھی کچھ انتظام ( مفقود کے مال یا کسی عزیز وغیرہ کی کفالت کے ذریعے ) ہو، لیکن اگر عورت عصمت کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال کی بجائے ایک سال انتظار کا حکم دیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ ایک سال عورت کے مقدمہ دائر کرنے سے شمار ہوگا۔ اِسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں لیکن مفقود کا اِتنا مال نہیں، جو اِن چار سالوں میں بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو تو اِس صورت میں کم از کم ایک سال کے انتظار کا حکم دیا جا سکتا ہے اور اِس مذکورہ صورت میں سال کی مدت پوری ہونے پر قاضی اِن کے مابین تفریق کر دے گا اور یہ تفریق طلاقِ رجعی ہو گی، لہذا مفقود کی بیوی کو عدتِ وفات کی بجائے عدتِ طلاق یعنی تین حیض گزانے ہوں گے اور اگر مفقود اِس دوران واپس آگیا اور عدت کے دوران اِس نے رجعت کر لی تو نکاح بدستور باقی رہے گا اور اگر عدت کے دوران آکر رجوع نہ کیا یا عدت کے بعد آیا تو بیوی بائنہ ہو کر خود مختار ہو جائے گی خواہ دوبارہ اِس شوہر سے نکاح کرے یا دوسرے سے نکاح کرے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ عدالت میں یہ معاملہ تقریباً ساڑھے پانچ ماہ رہا اور اس کے بعد فیصلہ دیا گیا اور فیصلے میں چھ ماہ کی مدت عورت کو انتظار کےلیے دی گئی ہے۔لیکن چونکہ یہاں مالکیہ کے مذہب پر فتوی دیا گیا ہے تو اِن کی تمام شرائط کی رعایت ضروری ہے اِس لیے عدالت کے فیصلے کے بعد چار سال انتظار کرے اور اگر نان نفقہ کا بندوبست نہ ہو یا عصمت کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر مقدمہ دائر کرنے کے وقت سے اب تک ایک سال گزر جائے تو عدت گزارنے کے بعد اپنے لاپتہ شوہرکے بھائی سے یا دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔
قال مالك والأوزاعي: إلى أربعين سنين، فينكح عرسه بعدها كما في النظم، فلو أفتى به موضع الضرورة، ينبغي أن لا بأس به على ما أظن۔ (القهستاني، شمس الدين محمد، جامع الرموز، كتاب المفقود، ج:3، ص: 390)
ومذهب الحنفية في الباب، وإن كان قوياّ روايةّ و درايةّ، ولكن المتأخرين منا قد أجازوا الإفتاء بمذهب مالك عند الضرورة نظراّ إلى فساد الزمان۔ (إعلاء السنن، كتاب المفقود، باب إمرأته حتى ياتيها البيان، ج:13، ص:67)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں