بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مرنے كے بعد اضافی مراعات ملنے پر ميراث كا حكم


سوال

اگر مرنے كے بعد ميت كے ورثاء ميں سے كسی کو حکومت کی طرف سے مراعات اور دیگر عطیات  پلاٹ وغیرہ مل جائے ،تو کیا اس میں دوسرے وارث اس کے ساتھ شریک ہو  ں گے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں اور ترکہ اس مال کو کہا جاتا ہےجو وفات کے وقت میت کی ملکیت میں داخل ہو  اس کےعلاوہ جو مال وفات کے وقت میت کی ملکیت میں داخل نہ ہو اور اس کی وفات کے بعد کسی فنڈ وغیرہ کی صورت میں اس کے ورثاء کو ملےتو وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔

         لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق مرحوم کے والد کوجو مراعات اورعطیات پلاٹ وغیرہ حکومت کی طرف سے مل جائیں،تو اس میں میراث کی  طرح تقسیم نہیں ہوگی بلکہ حکومت کی طرف سے جس کو مل جائے صرف اس کی ملکیت شمار ہوگی اور ورثاء اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

 

العطايا لايورث عنه۔(شرح الحموي على الأشباه والنظائر،ج2،ص:495)

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الفرائض،ج:10،ص:493)


فتویٰ نمبر : 4985/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں