بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بعض ورثاءکو محروم کرکے ایک وارث کے لئے کل جائیداد کی وصیت


سوال

کیا کو ئی شخص بستر مرگ پراپنے ورثاء کی موجودگی میں پوری جائیداداپنی تیسری بیوی کوہبہ کرسکتا ہے،کہ جس سے  دوسرےوارث محروم ہوجائیں؟

جواب

           واضح رہے کہ مرض الموت  میں کسی کو کوئی چیز ہبہ کرنا وصیت کے حکم میں ہوتاہے،اور شریعت مطہرہ  نے ہروارث کے لئےاس کا شرعی حصہ متعین کردیا ہے لہذا وارث کے لئے وصیت  دیگرورثاءکی اجازت پر موقوف ہوتی ہےان کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوتی،

            لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی نے بستر مرگ پر اپنی  جائیداد تیسری بیوی کو ہبہ کردی ہو تو یہ  ہبہ دیگر ورثاءکی رضامندی کے بغیر شرعا معتبر نہیں ہےچنانچہ اگر دیگر ورثاءکی رضامندی نہ ہوتویہ جائیدادمرحوم کےتمام ورثاءمیں ان کےشرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

 

(ولا تجوز لوارثه)لقوله عليه السلام :"إن الله أعطى كل ذي حق حقه،ألا لا وصية لوارث "؛ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض،ففي تجويزه قطيعة الرحم ؛ولأنه حيف۔(الهداية،كتاب الوصايا:ج4،ص140،139)

والهبة والصدقه من المريض لوارثه في هذا نظير الوصية؛لأنه وصية حكما حتى يعتبر من الثلث۔( تبیین الحقائق،    كتاب الوصايا،ج6،ص:182)


فتویٰ نمبر : 3233/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں