بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بلڈنگ کے شیئرز بنا کر بیچنا اور پھر شریک سے کرایہ پر لینا


سوال

 ہم HYPER MALL  کے نام سے ایک عمارت تعمیر کر رہے ہیں جس کے کچھ حصے کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور باقی پر تعمیراتی کام جاری ہے ، مذکورہ عمارت کا ذریعہ آمدن ماہانہ کرایہ ہوگا اور مختلف کاروباری اداروں سے کرایہ کے معاہدے ہوں گے، مذکورہ عمارت کے 1700  شیئرز بنائے گئے ہیں جس میں ایک شئیر کی قیمت کی ادائیگی پر شیئر ہولڈر  HYPER MALL کے مالک کے ساتھ کرایہ کا معاہدہ کرے گا، جس کے بعد HYPER MALL والے سہولیات وغیرہ  فراہم کرکے سارے فلور کو مختلف برانڈز کو کرایہ پر دیں گے، کیا شرعا یہ معاملہ جائز ہے؟  نیز  مالک اپنے شیئر کو بیچ سکے گا جس کا پہلا حقدار HYPER MALL کا مالک ہوگا اور پوری عمارت کی قیمت بڑھنےکے ساتھ  ساتھ شیئر ہولڈرز کے شیئرز (حصص) کی قیمت بھی بڑے گی۔ کیا  مذکورہ بالا معاملہ شرعی نقطہ نظر سے درست ہے یا نہیں؟

جواب

                 واضح رہے کہ مبیع کے حصے بنا کر اسے متعدد افراد پر بیچنا اس طور پر کہ ہر ایک اس مبیع  کے ہرہر جزء میں اپنے حصے کے بقدر شریک ہو فقہاء  کی اصطلاح میں بیع المشاع کہلاتا ہے جو کہ جائز ہے۔ اسی طرح سے ایک شریک کا دوسرے شریک سے  اس کا حصہ کرایہ پر لینا  بھی جائز ہےالبتہ  اجارہ کی شرط پر بیع  کرنا درست نہیں تاہم اس بات کو اگر شرط نہ ٹہرایا  گیا ہو ، بلکہ صرف وعدہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہو تو جائز ہے۔ اسی طرح   کرایہ پر لیا ہوا مکان یا دکان وغیرہ آگے کسی اور کو کرایہ پر دینا بھی جائز ہے اور  جب پہلے کرایہ دار نے اس میں اضافی مراعات شامل کرکے  کرایہ پردیا ہو  تو پھر اضافی کرایہ بھی وصول کرنا جائز ہوگا۔ اس کے علاوہ شیئرز  مالکان،  اگر اپنا حصہ بیچنا چاہیں توبیچ سکتے ہیں جس کے  خریدنے کا پہلا حق عمارت میں اس کے ساتھ جو شرکا ہیں ان کا ہوگا۔

                صورت مسئولہ میں مذکورہ عمارت کے شیئرز بناکر بیچنا درست ہے البتہ بیع میں یہ شرط نہ لگائی جائے کہ مالک ہی کو دوبارہ کرایہ پر دیا جائے گا اور بیع کامعاملہ طے ہونے کے بعد اگر مالک  کرایہ پر لے کر اس میں اضافی سہولیات فراہم کر کے آگے کسی کو زیادہ کرایہ پر دے تو یہ  جائز ہے اسی طرح عمارت کے شیئرز خریدنے والے چونکہ عمارت میں حصہ دار بن جاتے ہیں اس لیے جب بھی عمارت کی قیمت بڑھے گی تو ان کے حصہ کی قیمت بھی  زیادہ ہوگی ، اس کے علاوہ جب بھی شیئرز  مالکان اپنے حصوں کو بیچنا چاہیں تو خریدنے کا پہلا حق ان شرکاکا ہوگا جو ان کے ساتھ عمارت میں شریک ہیں۔

 

بخلاف المشاع؛ لأن المشاع محل للتملك ولهذا يجوز بيع المشاع.(الجوهرة النيرة، كتاب الهبة، ج:1، ص:326)

بيع المشاع جائز لا رهنه. (تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الرهن، ج:6، ص:469)

وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.  (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب السادس، ج:4، ص:448)

أن الشريك أحق بالشفعة من صاحب الطريق؛ لأن الشريك في عين العقار أحق من الخليط. ( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الشفعة، سبب ثبوت حق الشفعة، ج:5، ص:9)


فتویٰ نمبر : 3010/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں