بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

وتر میں دعائے قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص پڑھنا


سوال

ایک آدمی کو دعائے قنوت یاد نہیں تھی اور وہ اس کی جگہ سورۃ اخلاص پڑھتا تھا اب  دعائے قنوت یاد کی ہےتو کیا  اب پچھلے وتروں کا اعادہ کرے گا یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ وتر میں  دعائے قنوت پڑھنا سنت ہےتاہم اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہوتو فقہاے کرام لکھتے ہیں کہ وہ اس کی جگہ کوئی اور مسنون دعا جیسے"اللهم ربنا آتنا" يا"اللهم اغفر لي" تین مرتبہ پڑھ سکتا ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو اور وہ دعائے قنوت  کی جگہ سورۃ  اخلاص پڑھ لےتو اس کی نماز ہو جائے گی اور دوبارہ اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے۔

 

وليس في القنوت دعاء مؤقت. كذا في التبيين والأولى أن يقرأ " اللهم إنا نستعينك " ويقرأ بعده " اللهم اهدنا فيمن هديت " ومن لم يحسن القنوت يقول: ﴿ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار﴾ [البقرة: 201] كذا في المحيط أو يقول: اللهم اغفر لنا ويكرر ذلك ثلاثا.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الثامن في صلوة الوتر،ج:1،ص:111)

وفي مقدمة العزنوية:إن كان لا يحسن القنوت يقرأ ثلاث مرات قل هو الله أحد أو ثلاث مرات اللهم اغفرلنا.(السعاية في كشف ما في شرح الوقاية، كتاب الصلوة،باب صفة الصلوة،ج:2،ص:139)


فتویٰ نمبر : 9094/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں