بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیع الوفا کا حکم


سوال

زید پلاٹ بیچنے کا کاروبار کرتا ہے۔ اس نے کسی شخص کے ہاتھ اس شرط پر پلاٹ بیچے کہ چھ ماہ کے اندر اندر وہ لی گئی رقم پر متعین اضافہ کرکے پیسے واپس کرے گا اور اپنے پلاٹ واپس لے گا۔ معاہدے کے دفعات مندرجہ ذیل ہیں۔ ١۔ معاہدہ چھ ماہ کے عرصہ کیلئے ہوگا۔ ٢۔ فی مرلہ قیمت ایک لاکھ ایک ہزار(101,000)روپے رکھی گئی۔ ٣۔ چھ مہینے بعد زید ایک لاکھ آٹھ ہزار (108,000) روپے فی مرلہ کے حساب سے پلاٹ واپس خریدے گا ۔ ۴۔ اگر وہ شخص چھ مہینے سے پہلے پیسے مانگتا ہے تو ایک لاکھ آٹھ ہزار (108,000) روپوں کی بجائے ایک لاکھ چھ ہزار(106,000) روپے فی مرلہ کے حساب سے پیسے دیے جائیں گے۔ ۵۔ اگر زید معاہدہ کے مقررہ وقت تک پیسے ادا نہ کر سکے تو دو ہزار (2,000) روپے فی مرلہ ہر مہینے اضافہ ہوتا رہے گا۔ جو کے پہلے ایک لاکھ آٹھ ہزار(108,000) روپے رکھی گئی تھی۔ کیا یہ معاہدہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ اگر نہیں تو تفصیلی فتویٰ دے دیں۔ اور اس صورتحال میں جائز معاہدہ کیا ہوگا؟

جواب

               اگرکوئی شخص کسی پر کوئی چیز اس شرط کے ساتھ فروخت کرے  کہ  کچھ وقت بعد  وہی چیز خریدار واپس اس فروخت کنندہ پر فروحت  کرے گا  تو فقہی اصطلاح میں  اس کو بیع الوفا کہا جاتا ہے،بیع بالوفا میں  خریدار خریدی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنتا بلکہ  وہ چیزخریدار کے پاس  رہن کے طور پر  ہوتی ہےاور خریدار  کی طرف سے  دی گئی رقم  فروخت کنندہ کے ذمے  قرض شمار  ہوتی ہے۔

          صورت  مسئولہ  میں جو شخص پلاٹ اس شرط کے ساتھ فروحت کرتا ہے  کہ چھ مہینوں کے بعد اپنا پلاٹ واپس لیکر متعین اضافہ کے ساتھ خریدار کو اپنی رقم  لوٹائے گا تو یہ  قرض پر نفع دینے کی ایک شکل ہے  اور قرض پر نفع سود  کے  زمرے میں شامل  ہونےکی وجہ سے حرام ہے اس لیے  مذکورہ کاروبار شرعانا جائز ہے۔

 

"العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لاللألفاظ والمباني ولذا يجري حكم الرهن في البيع بالوفاء"

يفهم من هذه المادة أنه عند حصول العقد لا ينظر للألفاظ التي يستعملهاالعاقدان حين العقد بل إنما ينظر إلى مقاصدهم الحقيقة من الكلام الذي يلفظ به حين العقد لأن المقصودالحقيقي هوالمعنى وليس اللفظ ولاالصيغة۔۔۔مثال ذالك:بيع الوفاء،فاستعمال كلمة البيع فيه التي تتضمن تمليك المبيع للمشتري أثناءالعقد لايفيد التمليك لأنه لم يكن مقصودا من الفريقين بل المقصود به إنما هو تأمين دين المشتري المترتب في ذمة البائع وابقاءالمبيع تحت يدالمشتري لحين وفاءالدين ولذالك لم يخرج العقد عن كونه عقد رهن فيجري به حكم الرهن ولا يجري حكم البيع(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،القواعد الكلية،المادة:3،ج:1،ص:21)


فتویٰ نمبر : 3153/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں