بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مرنے کے بعد ذکر اللہ کا ثواب


سوال

کوئی بھی شخص ذکر و اذکار پڑھ کر اپنے لئے رکھ  سکتا ہے جیسے 1 لاکھ 2 لاکھ مرتبہ کلمہ  طیبہ یا کچھ بھی ذکر و اذکار پڑھ کر بندہ یہ نیت کر سکتا ہے کہ اس کا ثواب میرے مرنے کے بعد مجھ تک پہنچ جائے تو کیا پھر اس کا ثواب اگر میں ایسی نیت کروں اسی وقت مجھے نہیں ملے گا میرے مرنے کے بعد مجھ تک پہنچے گا ؟

جواب

             واضح رہے کہ انسان جو بھی نیک یا بد عمل کرتا ہے تو وہ اس کے اعمال نامہ میں  لکھا جاتا ہے نیک عمل کا ثواب اخروی انعامات کی صورت میں اس کو ملتا ہے جب کہ بد عمل کی جزا آخرت میں سزا کی صورت میں اس کو ملتی ہے۔

            لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق انسان دنیا میں جو بھی ذکر و اذکار کرتا ہے تو وہ اس کے اعمال نامہ میں  لکھا جاتا ہے اور اس کے  ثمرات دنیا وآخرت  دونوں  میں  اس کو  ملتے ہیں اور اس میں  اگر یہ  آخرت کی نیت کرے یا نہ کرے  بہر حال اس کا ثواب اس کو  آخرت میں ملتا ہے۔

 

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ النَّعِيمِ (8) خَالِدِينَ فِيهَا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾(سورۃ لقمٰن،آیت:8،9)

مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَاب(سورۃ المؤمن،آیت:40)

عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما عمل ابن آدم من عمل أنجى له من النار من ذكر الله»(مصنف ابن ابي شيبة،باب ما جاء في فضل ذكر الله تعالى،ج:7،ص:169)       


فتویٰ نمبر : 5000/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں