بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

انشورنس کرانے والے ایپ میں اکاونٹ بنانا


سوال

ایک موبائل ایپ ہے  جس کا نام ترٹل منٹ پرو ( turtle mint Pro)ہے جس کے اندر کئی ساری انشورنس کمپنیاں جڑی ہوئی ہیں  اس ایپ کے ذریعے سے اس  میں جڑی ہوئی کمپنیوں میں لائف انشورنس ،کار اور بائیک وغیرہ کے انشورنس کیے جاتے ہیں میں نے  بھی اس موبائل ایپ پر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے میں اس سے کسی کا انشورنس تو نہیں کرتا اور نا ہی کبھی کرنے کا ارادہ ہے لیکن اس ایپ میں پیر، بدھ اور ہفتہ کے دن سوال وجواب مقابلہ  ہوتا ہے جس میں انشورنس سے متعلق چھ سوال ہوتے ہیں جو ان کا صحیح جواب دیتا ہے اُسے بطور انعام 50 سے لیکر 200 روپیہ  تک کے پوائنٹس ملتے ہیں جو ایک مہینہ بعد اکاؤنٹ میں آ جاتے ہیں تو کیا یہ کمائی صحیح ہے اور اگر یہ نا جائز ہے تو میں نے اب تک اس ایپ سے جو کمائی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا اور دوسری بات یہ کہ میں نے اس ایپ کے بارے میں دوسرے لوگوں کو بتایا بھی ہے وہ بھی اس سے کمائی کر رہے ہیں تو کیا ان گناہ بھی مجھے ہی ہوگا ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

               واضح رہے کہ انشورنس کمپنی کی بنیاد سوداور جوا پر ہے جو قرآن وحدیث کے صریح نصوص کے  مطابق حرام وناجائز ہیں نیز جس  کی آمدنی حرام ہو  اس سے انعام لینا اور اس کا استعمال کرنا   جائز نہیں۔

                لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ایسے موبائل ایپ میں اکاونٹ بنانا جس میں مختلف انشورنس  کمپنیاں جڑی ہوئی ہوں  اور لوگوں کا انشورنس کراتےہوں  جائز نہیں ،نیز اس ایپ کی آمدنی چونکہ حرام ہے اس وجہ سے  اس سے انعام وصول کرنا بھی جائز نہیں تاہم اگر کسی نے بطور انعام ایسے  پیسے لیے ہوں تو بلا نیت ثواب صدقہ کرے اور آئندہ ایسے ایپ کا استعمال نہ کرے  اور جن لوگوں کواس  ایپ کے استعمال کے بارے میں بتایا ہے  تو ان کو بھی اس ایپ کے استعمال سے روکے  اگر وہ رکنا نہیں  چاہتے تو اللہ تعالی سے معافی مانگا کرے امید ہے کہ اس سے اس کی تلافی ہو جائے گی۔

 

عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء».(صحيح مسلم،باب لعن آكل الربا ومؤكله،ج:3،ص:1219)

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.(الفتاوى الهندية،الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات،ج:5،ص:343)

والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله.(الفتاوى الهندية،الباب الخامس عشر في الكسب،ج:5،ص:349)


فتویٰ نمبر : 3124/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں