بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مشتری کی طرف سے وکیل بننا


سوال

بائع نے مشتری پر ادھار ٹریکٹر فروخت کیا ابھی بائع مشتری کے لیے  دوسرے  پر فروخت کرتاہے تو کیا یہ  جائزہے؟

جواب

             بائع اور مشتری کے درمیان جب ایجاب وقبول ہو جائے  اوراس کے بعد  مشتری مبیع  پر قبضہ کر لے؛ قبضہ کی صورت یہ ہےکہ  بائع مشتری اور مبیع کے درمیان تخلیہ کر دے اور مشتری کو اس چیز میں تصرف  کا اختیار دے دے،تو اس کے بعد مشتری کو اختیار ہے کہ جس طرح وہ کسی دوسرے شخص  کو اس چیز کو  بیچنے کےلیے وکیل بنا سکتا ہےاسی طرح بیچنے کےلیے دوبارہ اسی بائع کوبھی  وکیل بناسکتا ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ  میں اگر مشتری  نے ٹریکٹر پر قبضہ کیا ہو  یعنی بائع نے مشتری اور ٹریکٹر کے درمیان  تخلیہ کیا ہو اور مشتری کو ٹریکٹر میں تصرف کا اختیاربھی  دیا ہو  تو اس صورت میں مشتری کو اختیار ہے چاہے تو اپنے پاس رکھے   یا خود فروخت  کرے یا  بائع یا  پھر کسی اور کو فروخت کرنے کےلیے وکیل بنائے۔

 

من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب الثاني فيما يرجع إلى انعقاد البيع،الفصل الثالث،ج:3،ص:13)

والتخلية في بيت البائع صحيحة عند محمد - رحمه الله تعالى - خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - رجل باع خلا في دن في بيته فخلى بينه وبين المشتري فختم المشتري على الدن وتركه في بيت البائع فهلك بعد ذلك فإنه يهلك من مال المشتري في قول محمد وعليه الفتوى هكذا في الصغرى.(الفتاوى الهندية،كتب البيوع،الفصل الثاني في  تسليم المبيع وفيما يكون،ج:3،ص:16)

(وأما ركنها) : فالألفاظ التي تثبت بها الوكالة من قوله: وكلتك ببيع هذا العبد أو شرائه.(الفتاوى الهندية،كتاب الوكالة،الباب الاول في معنى الوكالة وركنها وشرطها والفاظها،ج:3،ص:560)


فتویٰ نمبر : 3020/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں