بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دودھ کے عوض گائے پالنا


سوال

زید جو کہ مالی اعتبار سے کمزور ہے بکر سے کہتا ہے کہ تم مجھے گائے خرید کر دو میں اس کو پالوں گا اور دودھ سے نفع حاصل کروں گا، سوال یہ ہے کہ وہ گائے زید کو خرید کر دینا کیسا ہے،اس شرط پر کہ گائے بکر کی رہے گی اگر کوئی نقصان ہوا تو بکر کا ہوگا،اور گائے سے نفع ہوا یعنی اس نے کوئی بچہ وغیرہ جنا تو وہ بھی بکر کا ہوگا  ؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے عقد اجارہ تب صحیح ہوگا  جب اجرت کی مقدار معلوم اور متعین ہو،  اسی طرح جس چیزکو  بطور  اجرت مقرر کیا گیا  ہو وہ اجیر کے منافع  سے حاصل شدہ  نہ  ہو۔

             صورت مسؤلہ میں اگر گائے پالنے کے عوض اس سے حاصل شدہ دودھ کو عوض  مقرر کیا جائے،تو چونکہ اس کی مقدار معلوم نہیں کہ   یہ دودھ کتنا ہوگا اور کب تک ہوگا نیز یہ دودھ اجیر  کے عمل کے منافع میں سے بھی ہے،لہذا دودھ کو عوض مقرر کرنے سے یہ عقد  جائز نہیں۔  البتہ جواز کی  صورت یہ ہے کہ گائے   پالنے   کی اجرت میں متعین مقدار  میں دودھ  مقرر کیا جائے  لیکن یہ تخصیص نہ ہوکہ اسی گائے کے دودھ   میں سے دیا جائے گا ،پھر گائے کا  مالک (موجر)چاہے تو اسی دودھ میں  سے متعینہ مقدار میں اجرت دےدے یا کسی اور دودھ سے ، يا گائے پالنے كے عوض    بطور اجرت رقم   مقرر كی جائے  اور دودھ مالک کو ملتا رہے۔

 

ولا تصح ‌حتى ‌تكون ‌المنافع معلومة، والأجرة معلومة"(الهداية،كتاب الاجارات،ج:3،ص:296)

ولو استأجر عبدا بنصف ربح ‌ما ‌يتجر أو رجلا يرعى غنما بلبنها أو بعض لبنها أو صوفها لم يجز ويجب أجر المثل. كذا في التتارخانية۔۔۔ ‌دفع ‌بقرة ‌إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه (الفتاوی الهندیة،كتاب الاجارة،ج:4،ص:481)

والحيلة في ذلك ‌لمن ‌أراد ‌الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط ۔(الفتاوی الهندیة،كتاب الاجارة،ج:4،ص:480)


فتویٰ نمبر : 3019/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں