بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مفاسد پر مبنی محفل حمد و نعت کا حکم


سوال

ہمارے علاقہ میں مساجد کے اندر محفل نعت کے لیے معاوضہ پر نعت خواں حضرات کو بلایا جاتا ہے دوران نعت وہ گلوکاروں کی طرح ہاتھ لہرا کر  اور نقل اتار کر نعت پڑھتے ہیں اور ڈیجیٹل کیمرہ پر ان کی فلم بندی اور تصویر کشی کی جاتی ہے اس دوران شرکائے مجلس ان پر نوٹ نچھاور کرتے رہتے ہیں اور اکثر نوٹ پھینکنے پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جو فساق کی مجالس کی مشابہ ہوتی ہیں بعض مساجد میں اس عمل پر منتظمین اور نمازیوں واہل محلہ کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوگئے اور انتشار پھیل گیا جب کہ بعض مقامی مولوی صاحبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی مسجد میں یہ سب کام جائز ہیں؟

جواب

            اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور﷐ کی شان میں ان کے اوصاف پر مشتمل اشعار پیش کرنا  باعث اجر ہے اور یہ عمل خود حضور ﷐کی مجلس میں بھی ہوا ہے چنانچہ حضرت حسان بن ثابت ﷜کو مجلس میں مدح خوانی کے لیے بلایا جاتا تھا لیکن مدح خوانی  اور نعت گوئی میں شرط یہ ہے  کہ وہ ایسے امور پر مشتمل ہو جو شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہوں۔ چنانچہ محض تلذذ حاصل کرنے کے لیے ایسے انداز میں نعت پڑھنا جس میں گانے بجانے کا طرزوسرور نمایاں ہو یا مجلس کے آداب کے منافی اعمال سرزد ہوتے ہوں یا دولت کمانے کا ذریعہ ہو تو ا ن امور کے  ارتکاب سے نعت پڑھنے کا مقصد فوت ہوتا ہےاس لیے ان سے اجتناب ضروری ہے۔

 

 قال رسول الله صلی الله علیه و سلم: یأتي علی الناس زمان یکون حديثهم في مساجدهم في أمر دنیاهم فلا تجالسوهم فلیس لله فیهم حاجة.(شعب الإیمان للبیهقی،الصلوات،فضل الجمعة، ج:3، ص:87)

عن عبد الله بن مسعود: إن أشد الناس عذاباً یوم القیامة المصوّرون.( صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة،  باب لا تدخل الملائكة، ج،6، ص:161)

في المعراج: الملاهي نوعان: محرم وهو الآلات المطربة من غير الغناء كالمزمار سواء كان من عود أو قصب كالشبابة أو غيره كالعود والطنبور لما روى أبو أمامة أنه عليه الصلاة والسلام قال: إن الله بعثني رحمة للعالمين وأمرني بمحق المعازف والمزامير ولأنه مطرب مصد عن ذكر الله تعالى. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الشهادات، باب من تقبل شهادته ومن لا تقبل، ج:7، ص:88)


فتویٰ نمبر : 5019/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں