بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مال میراث کسی کو ہبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے تین شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی مرحوم کی زندگی میں فوت ہوچکی تھی  اور دو بیویاں موجود تھیں جن سے کوئی اولاد نہیں ، اس شخص  نے بستر مرگ پر اکثر جائیداد اپنی تیسری بیوی کے نام ہبہ کی ہے ، پوچھنا یہ ہےکہ کیا کوئی اپنے ورثاء کی موجودگی میں پوری جائیداد کسی ایک کو  ہبہ کرسکتا ہےکہ جس سے دوسرے وارث محروم ہوجائیں۔

جواب

           واضح رہے  کہ مرض الموت میں کسی کو کوئی چیز ہبہ(گفٹ) کرنا وصیت کے حکم میں ہے،اور شریعت مطہرہ نے ہر وارث کا شرعی حصہ متعین کردیا ہے لہذا کسی ایک وارث کےلئے وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے ان کی  اجازت کے بغیر نافذ نہ ہوگی۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے مرحوم نے اگر واقعتا مرض الموت   میں اپنی پوری جائیداد یا اس کا اکثر حصہ ایک بیوی کو ہبہ کیاہو  تو یہ ہبہ دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر شرعا معتبر نہیں  ، لہذا مذکورہ جائیداد   تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

 

عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَنُوصُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا يَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ»۔(سنن الدارمى:باب الوصية للوارث،ج:4،ص2063)

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه۔( مشكاة المصابيح:كتاب الفرائض،ج 1،ص 172)

والهبة والصدقة من المريض لوارثه في هذا نظير الوصية؛ لأنه وصية حكما حتى يعتبر من الثلث۔(تبيين الحقائق:كتاب الوصايا،ج6 ،ص182)


فتویٰ نمبر : 4982/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں