بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

امام کا با جماعت نماز کی دوسری رکعت میں سورۃ الناس کی قراءت کرنا


سوال

امام صاحب کے لئے  با جماعت نمازکی دوسری  رکعت میں سورۃ الناس  کی تلاوت کرنا کیساہے جب کہ جماعت میں مسبوق بھی شریک ہوتے ہیں تو  جب مسبوق   اپنی باقی ماندہ  نماز ادا کرے گا تو  اس میں کونسی سورت کی قراءت کرے گا ؟ کیونکہ نماز میں سورت کی تلاوت ترتیب وار کرنی ہوتی ہے۔

جواب

              واضح رہے کہ  مسبوق امام کے سلام کے بعد بقیہ  رکعتیں قراء ت کے حق میں شروع نماز  کی حیثیت  سے ادا کرے گا،چنانچہ ثناء،تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد کسی بھی سورت کو ملا نا صحیح ہو گا ۔

             لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق امام صاحب کے لئے  با جماعت نمازکی    دوسری  رکعت میں سورۃ الناس  کی تلاوت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ    مسبوق  کو اپنی بقیہ رکعات کی قراءت میں شروع نماز کی طرح  جہاں سے بھی چاہے قراءت کرسکتا ہے  چنانچہ جب مسبوق پرقراءت میں امام کی پڑھی گئی قراءات کی  ترتیب کی رعایت   لازم نہیں تو امام کے لئےآخری سورتوں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد۔

وفی رد المحتار:فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولايقعد قبله وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة، ثم يتشهد، ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد، ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة، وثانيتهما بفاتحة خاصة اهـ. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد۔(الدر المختار مع رد المحتار ،فروع اقتداء متنفل بمتنفل ومن يرى الوتر واجبا بمن يراه سنة،ج:1،ص:597)


فتویٰ نمبر : 9087/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں