بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

اللہ تعالی کا اپنے بندےسے ستر (70)ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی حدیث کی تحقیق


سوال

وعظ وتقریر کے دوران سننے میں آیا ہے کہ "اللہ تعالی بندہ سے  ستر(70) ماؤں سے زیادہ محبت فرماتے ہیں "اور حدیث کی طرف اس کی نسبت ہوتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے یا نہیں ؟

جواب

               سوال میں مذکورہ حدیث ان الفاظ كے ساتھ كسی مستندکتاب میں بقدر  وسعت تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملی ، البتہ کتبِ حدیث میں اس مضمون کی دیگر  روایات منقول ہیں، جن میں اس بات کی صراحت ہے کہ جس طرح ماں اپنے بچے پر مہربان ہوتی ہے اللہ تعالی ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہیں، لیکن  مذکورہ عدد کی تخصیص كسی مستند حدیث میں نہیں ملی البتہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہےکہ" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:  کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے"چنانچہ اس حدیث سے معلوم ہوتا  ہے کہ اللہ کی رحمت والدین اور دوسری مخلو قات  کےمقابلے میں ننانوے(99)درجےبڑھ کر ہے تاہم سوال میں مذکورہ ستر (70)ماؤں سے زیادہ محبت کی روایت نہیں مل سکی ۔

 چنانچہ  کسی حدیث کی آپﷺکی طرف نسبت کرنے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ،اس لیے حدیث کے یقینی طور پر ثابت ہونے سے پہلے اس کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ آپﷺکی طرف جھوٹ کی نسبت کر نے سے عاقبت خراب نہ ہو جائے،لہذا سوال میں مذکور حدیث کو اس عدد کی تخصیص کے ساتھ بیان  کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار" ۔(مقدمة مسلم،باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ،رقم الحديث:4،ج:1،ص:67)

أن أبا هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: جعل الله الرحمة مائة جزء، فأمسك عنده تسعة وتسعين جزءا، وأنزل في الأرض جزءا واحدا، فمن ذلك الجزء يتراحم الخلق، حتى ترفع الفرس حافرها عن ولدها، خشية أن تصيبه۔(الصحيح للبخاري، باب: جعل الله الرحمة مائة جزء،ج:8ص:8)


فتویٰ نمبر : 4976/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں