بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

لفظ "حرام" كہنےسے طلاق کے وقوع کا مسئلہ


سوال

ایک شخص نے بیوی کےساتھ غلط یا حرام کام کیا اور بعد میں اس کام کے بارے میں خیال آیا تو منہ سے "حرام" لفظ نکل گیا لیکن طلاق کی نیت نہیں تھی بلکہ اس خیال کے بارے میں کہا یا اس خیال کو ذہن سے ہٹانے کے لیے ایسا کہا تو کیا طلاق واقع ہوگی؟

جواب

            واضح رہے کہ طلاق كے الفاظ سے اس وقت  طلاق واقع ہوتی ہے جب شوہر اسكی نسبت بیوی کی طرف کرے،ورنہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگرشوہرنے "حرام" کی نسبت بیوی کی طرف نہیں کی  بلکہ اس غلط کام کے بارے میں یا اس غلط خیال کو ذہن سے نکالنے کے لیے  حرام لفظ استعمال کیا تواس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

 

ومنها الإضافة إلى المرأة في صريح الطلاق حتى لو أضاف الزوج صريح الطلاق إلى نفسه بأن قال: أنا منك طالق، لا يقع الطلاق وإن نوى. (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:1، ص:212)

والمفهوم من تعليل الشارح تبعا للبحر عدم الوقوع أصلا لفقد شرط الإضافة... لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق. (الدر المختار، كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق، ج:3، ص:248)

لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب الصریح،مطلب فی قول البحر... ،ج:4، ص:461)


فتویٰ نمبر : 6412/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں