بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مہر میں لکھے ہوئے مکان کے حصہ کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بہو کے مہر میں بیٹے کا پدری مکان میں حصہ لکھا،اس شخص کے دو بیٹے ایک بیٹی اور ایک بیوی ہے۔ایک بیٹے کا مکان میں کتنا حصہ بنتا ہے؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے عقد نکاح کے دوران اگر شوہر کا والد مہر کی ادائیگی کا ضامن بن جائے تو شرعا یہ جائز ہے ۔ایسی صورت میں والد مہر کی ادائیگی کا ذمہ دار رہے گا، لہذا بیوی کو جس طرح شوہر سے مطالبہ کاحق ہے،اسی طرح ضامن سے بھی مطالبہ کر سکتی ہے۔

          صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سسر نے مہر میں گھر کے اندر بیٹے کا حصہ لکھ دیا ہواور وہ اس کا اقرار بھی کررہاہو تو عورت کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ اپنے سسر سےمہر کا مطالبہ کرے، چنانچہ اگر اس شخص کےدوبیٹےایک بیٹی اور ایک بیوی ہو تو مرحوم فرض کرنے کی صورت میں اس کے ایک بیٹے کا حصہ14/40بنتا ہے،لہذا یہی حصہ اس بہو کا حق مہر شمار ہوگا۔

 

وصح ضمان الولي مهرها ولو)المرأة(صغيرة)ولو عاقدا لأنه سفير(وتطالب أيا شاءت)من زوجها البالغ أو الولي الضامن(فإن أدى رجع على الزوج إن أمر)۔(تنويرالابصار مع شرحه الدرالمختار،كتاب النكاح،باب المهرج4ص286)

قوله:(وصح ضمان الولي مهرها)أى سواءكان ولي الزوج أوالزوجة،صغيرين كاناأوكبيرين۔(ردالمحتار على الدر المختار ،كتاب النكاح،باب المهر،مطلب في ضمان الولي المهر:ج4 ص286)


فتویٰ نمبر : 6395/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں