بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
مستری کے لیے لی ہوئی رقم میں سے اپنے لیے رکھنا
سوال
میں ٹھیکیدار ہوں اور ٹھیکہ طے کرتے ہوئے گاہک کو کہتا ہوں کہ اتنے پیسے میرے سامان کے ہیں اور اتنے پیسے مستری کے ہیں ۔گاہک کے خیال میں مستری والے پیسوں میں میرا نفع یا تعلق نہیں ہے ۔وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ پیسے مستری کے ہیں ۔جبکہ سامان میں بھی میرا منافع شامل ہوتا ہے ۔پھر بعد میں مستری والے پیسوں سے میں کم کرکے مستری کو ادا کرتا ہوں ، کیونکہ مستری سے میرا معاہدہ کم پیسوں کا ہوتا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ جو پیسے میں گاہگ سے مستری کے نام پر زیادہ لیتا ہوں، ان کا استعمال میرے لیے جائز ہے۔ مارکیٹ میں اسی طرح چل رہا ہے، بصورتِ دیگر دوکان کا کرایہ بھی مشکل سے ادا ہوتا ہے۔
جواب
کسی شخص کے کہنے پر اس کے لیے کوئی کام کرنا توکیل ( وکیل بنانے) کا معاملہ ہے٬ اور جائز کام کرنے پر وکالت کی اجرت بھی لی جاسکتی ہے٬ لیکن جس کےلیے کام کر رہے ہوں٬ اس کے ساتھ اجرت طے کیے بغیر٬ درمیان میں خفیہ طور پر اپنا کمیشن رکھنا دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہےلیکن اگر لوگوں میں کسی سے متعلق مشہور ہو کہ اجرت پر کام مستریوں سے کراتا ہے تب اس کا کسی کو بتائے بغیر بھی اپنے لیے پیسے رکھنا جائز ہے۔ اس کے علاوہ اگرٹھیکیدار کا ٹھیکہ اس بنیاد سے ہو کہ لوگوں کی فرمائش پر ان کے لیےاپنے سامان اور اپنی کاریگری سے اشیاء تیار کرتا ہو یا کسی کاریگر سے تیار کراتا ہو تو یہ صورت استصناع کی ہے جس میں ٹھیکیدار جتنا چاہے وصول کر سکتا ہے اورجتنا چاہے خود اپنے لیے رکھے یا کسی اور کو دے۔
صورت مسئولہ میں ٹھیکیدار کا مالک کے لیے مستری سے کام کروانا اگر وکالت کی بنیاد پر ہے تب تو اس کا اپنے لیے مستری کے پیسوں میں سے کمیشن رکھنا جائز نہیں اس کے جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ ٹھیکیدار اپنی اجرت پہلے سے مالک کے ساتھ متعین کر کے وصول کرے ،اور اگر ٹھیکیدار لوگوں کے ساتھ عقد کرکے ازخود اشیا تیار کرتا یا کراتا ہوتو اس صورت میں ٹھیکیدار جتنی بھی رقم وصول کرے جائز ہے۔
عَنْ أَبِي حَرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ". (شعب الايمان: رقم الحديث: 5106)
حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب، حدثنا داود يعني ابن قيس، عن أبي سعيد، مولى عامر بن كريز، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله، ولا يحقره التقوى هاهنا ويشير إلى صدره ثلاث مرات «بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام، دمه، وماله، وعرضه. (صحيح مسلم، باب تحريم ظلم المسلم و خذله و احتقاره و دمه، رقم الحديث: 2564)
"لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة وإلا فلا" المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً ای المعروف المعتاد بین الناس وان لم یذکر صریحاً… المعروف بین التجار کالمشروط بینهم". (مجلة الأحكام العدلية: المادۃ: 43- 44- 45)
وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه. (بدائع الصنائع، كتاب الإجارة، فصل في حكم الإجارة، ج:4، ص:208)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں