بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"من خَدَمَ خُدِمَ "کی تحقیق


سوال

 اکثر لوگ خدمت کی ترغیب کے لئے "من خَدَمَ خُدِمَ "حدیث بیان کرتے ہیں کیا یہ حدیث درست ہے اور احادیث کی کونسی کتاب میں ہے؟

جواب

              سوال میں مذکورہ حدیث ان الفاظ كے ساتھ كسی مستندکتاب میں بقدر  وسعت تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملی ۔ کسی حدیث کی آپﷺکی طرف نسبت کرنے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے،حدیث کی طرف نسبت کیے بغیر اگر عام مقولہ کے طور پر پیش کرے جیسا کہ فارسی کا مقولہ ہے"ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شود"تو پھر کوئی حرج نہیں۔تاہم یقینی طور پر ثابت ہونے سے پہلےحدیث کی طرف نسبت کرکے بیان کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے، تاکہ آپﷺکی طرف جھوٹ کی نسبت کر نے سے عاقبت خراب نہ ہو جائے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار" ۔(مقدمة مسلم،باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ،رقم الحديث:4،ج:1،ص:67)

أن أبا هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: جعل الله الرحمة مائة جزء، فأمسك عنده تسعة وتسعين جزءا، وأنزل في الأرض جزءا واحدا، فمن ذلك الجزء يتراحم الخلق، حتى ترفع الفرس حافرها عن ولدها، خشية أن تصيبه۔(الصحيح للبخاري، باب: جعل الله الرحمة مائة جزء،ج:8ص:8)


فتویٰ نمبر : 5075/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں