بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قضاء شدہ نمازوں میں سری وجہری قراءت کا حکم


سوال

اگر کسی شخص کی جہری نماز چھوٹ جائے اور وہ اس کی قضاء دن میں کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ قراءت سرا کرے گا یا اس کو اختیار ہے کہ سرا کرے یا جہرا؟

جواب

          فوت شدہ نمازوں کی قضاء اسی صفت کے ساتھ ہوتی ہے جس صفت کے ساتھ وہ فوت ہوتی ہیں،مذکورہ قاعدے کے موافق قضاء نمازوں  کی قراءت میں اصل نماز اور اصل وقت کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہذا اگر کوئی شخص ان نمازوں کی قضاء لانا چاہے جن میں قراءت جہر کے ساتھ ہوتی ہے تو اس صورت میں اگر قضاء باجماعت ہوتو جہر واجب ہے اور اگر اکیلے پڑھ رہا ہو تو جہر اور سر دونوں میں اختیار ہے،اور اگر نماز سری ہے تو امام ومنفرد ہر ایک پر سر،یعنی خفیہ تلاوت واجب ہے اگر چہ قضاء لانے کا وقت جہر ہو۔

 

ومن حكمه أن الفائتة تقضی على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة۔(الفتاوى الهندية:كتاب الصلوة،الباب الحادي عشر:في قضاء الصلوة،ج1،ص180)

ومتى قضى الفوائت إن قضاها بجماعة فإن كانت صلاة يجهر فيها يجهر فيها الإمام بالقراءة وإن قضاها وحده يتخير بين الجهر والمخافتة والجهر أفضل كما في الوقت ويخافت فيما يخافت فيه حتما وكذا الإمام، كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهندية:كتاب الصلوة،الباب الحادي عشر:في قضاء الصلوة،ج1،ص181)


فتویٰ نمبر : 9118/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں