بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

روزے کی نذر مان کر اس سے عاجز ہونا


سوال

ایک شخص نے کہا کہ اگر میں فلاں کام کروں تو مجھ پر روزہ رکھنا لازم ہوگا، پھر اس سے وہ کام سرزد ہوا ،اب بیماری یا کسی اور وجہ  سے روزہ رکھنے سے عاجز ہوجائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

           اگر کسی نے یہ نذر مانی کہ اگر مجھ سے فلاں کام سرزد ہوا تو مجھ پر روزہ رکھنا لازم ہوگا تو اس کام کے سرزد ہونے سے  اس پر روزہ رکھنا لازم ہوگا،تاہم اگر  بیماری یا کسی اور وجہ سےروزہ رکھنا مشکل ہو تو  صحت یاب ہونے کے بعد اس پر روزہ رکھنا لازم ہوگااور اگر مرض دائمی ہو اور صحت یابی کی امید نہ ہو تو  روزے کے بدلےایک روزے کا فدیہ ادا کرےگا اگر فدیہ ادا کرنے پر بھی قادر نہ ہو  تو پھر اللہ تعالی سے بخشش مانگتا رہے۔

           

 إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط.ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔(الفتاوى الهندية:كتاب الصوم،الباب السادس في النذر،ج1،ص210)


فتویٰ نمبر : 9126/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں