بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ
سوال
اگر صبح کا وقت مثلا 3:30 بجے پر داخل ہوتا ہے تو کتنے وقت بعد باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے اگر 3:30 پر وقت داخل ہوا توکیا 4:30 پر نماز باجماعت ادا کرنا صحیح ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اذان اور جماعت کے درمیان وقت دینا کیسا ہے مثلا 9 بجے پر عشاء کا وقت داخل ہوا تو باجماعت نماز کس وقت کرنی چاہیے ،کیا درمیان میں وقت دینا واجب ہے؟
جواب
اذان کے فورًا بعد اقامت کہہ دینا مکروہ ہے اذان اور باجماعت نماز کے درمیان دو یا چار رکعات والی نماز کا اتنا وقفہ کرنا چاہیے کہ جس کے ہر رکعت میں دس آیتیں آدمی اطمینان سے پڑھ سکے،تاہم مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ نہ کرنا مستحب ہےاور فجر کی نماز میں اتنی تاخیر کرنا افضل ہےکہ اگر کسی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے تودوبارہ فجر کے وقت میں اعادہ ہو سکے۔
صورت مسئولہ میں اگر کسی جگہ صبح کی اذان 3:30 بجے ہوتی ہو اور باجماعت نماز 4:30 بجے پڑھی جاتی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ نیند سے جاگ کر اور وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر باجماعت نماز میں زیادہ تعداد میں شریک ہوسکیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
ويفصل بين الأذان والإقامةمقدار ركعتين أو أربع يقرأ في كل ركعة نحوا من عشر آيات. كذا في الزاهدي والوصل بين الأذان والإقامة مكروه بالاتفاق... وأما إذا كان في المغرب فالمستحب يفصل بينهما بسكتة يسكت قائما مقدار ما يتمكن من قراءة ثلاث آيات قصار.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الفصل الثاني في كلمات الاذان والاقامة وكيفيتهم،ج:1،ص:113)
يستحب تأخير الفجر ولا يؤخرها بحيث يقع الشك في طلوعالشمس بل يسفر بها بحيث لو ظهر فساد صلاته يمكنه أن يعيدها في الوقت بقراءة مستحبة.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الفاسل الثاني في بيان فضيلة الاوقات،ج:1،ص:108)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں