بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بیت الخلاء میں پڑے لوٹے کا حکم


سوال

 میں بیت الخلاء جاتا ہوں  تو جس لو ٹے پر استنجاء کیا جاتا ہے اس پر پیشاب کی چھینٹے دیکھتا ہوں۔کیونکہ کوئی کھڑے ہوکر پیشاب کرتاہے۔میں نےکئی  بار لوٹے کو دھویااور سب کو تنبیہ کردی لیکن دوبارہ وہی حال ہے تو اب   میں کیا کروں؟

جواب

            شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جب تک ناپاکی کا یقین یا ظن غالب نہ ہوکسی چیز کو محض شک کی وجہ سے ناپاک نہیں کہا جاسکتا ۔

            لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق اگر  کوئی  بیت الخلاء ایسی جگہ پر ہو جہاں  لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے عادی ہوں جس کی وجہ سے اس کی چھینٹے لوٹے پر پڑتے ہو ں تو اس صورت میں احتیاط ضروری ہے  لیکن جہاں ایسی صورت حال نہ ہو تو وہاں جب تک  لوٹے  پر نجاست لگنے کا پورا یقین نہ ہو تو محض شک کی وجہ سے اس کو نجس نہیں کہا جاسکتا۔

 

عن ابن عباس قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبرين، فقال: «إنهما ليعذبان، وما يعذبان في كبير، أما أحدهما فكان لا يستتر من البول، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة».(صحيح البخاري،باب ما جاء في غسل البول،ج:1،ص:53)

" إياكم والظن، فإنه أكذب الحديث "(مسند احمد،مسند ابي هريرة رضي الله تعالى عنه،ج:12،ص:291)

شك في وجود النجس : فالأصل بقاء الطهارة.(الاشباه والنظائر،ما تفرع عن هذا الاصل:من الطهارة،ج:1،ص:77)

(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن.(رد المحتار على الدر المختار،باب:فرض الغسل،ج:1،ص:151)


فتویٰ نمبر : 9101/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں