بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

گناہوں سے توبہ تائب ہونے والے کا دین دار لڑکی سے نکاح کا حکم


سوال

ایک مرد جس کا ماضی بہت خراب تھا، جس سے زنا بھی سرزد ہوا تھا، لیکِن اب سچے دل سے توبہ تائب بھی ہوچکا ہے، اور کافی متقی، پرہیز گار اور دیندار بھی ہو گیا ہے، نماز، روزہ کا پابند، چہرے پر داڑھی اور حافظ قرآن ہو گیا ہے، مطلب کہ اسکی زندگی اب پورے طریقے سے دین کے راستے پر آگئی ہے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا توبہ کے بعد اس مرد کا کفو دینداری کے اعتبار سے کوئی نیک ، دیندار اور پاکدامن لڑکی قرار پاسکتی ہے یا نہیں؟ اگر یہ مرد کوئی دیندار لڑکی سے نکاح کر لے تو کیا یہ نکاح غیر کفو شُمار ہوگا یا کفو ؟براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب

           "کفو" کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر، یعنی مردنسب، دین داری، شرافت، پیشے اور مال داری میں عورت کے ہم پلہ یا اس سے بڑھ کر ہو، اگرمرد نسب، مال ،دِینداری ،شرافت اورپیشے میں عورت کے  ہم پلہ یا اس سے بہتر ہو تویہ دونوں ایک دوسرے کے "کفو" قرار پائیں گے، ان کاباہمی رضامندی کے ساتھ نکاح درست ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جو لڑکا اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہوکر دیندار بن گیا ہو تو  دیگر امورِ کفو کے ہوتے ہوئے وہ دیندار لڑکی کا کفو کہلائےگا۔

 

(‌الكفاءة ‌معتبرة) ‌في ‌ابتداء ‌النكاح ‌للزومه ‌أو ‌لصحته (‌من ‌جانبه) ‌أي ‌الرجل ‌لأن ‌الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح ۔ (الدر المختار علي صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج:3، ص:84)

‌الكفاءة ‌تعتبر ‌في ‌أشياء (منها النسب)۔۔۔(ومنها إسلام الآباء)۔۔۔(ومنها الحرية)۔۔۔(ومنها الكفاءة في المال)۔۔۔(ومنها الديانة)۔۔۔(ومنها الحرفة)۔ (الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:290)


فتویٰ نمبر : 6415/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں