بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایام ِ اضحیہ كے بعد قربانی کی قضا


سوال

زید صاحب نصاب ہے لیکن  تنہا قربانی کا جانور نہیں خرید سکتا اور نہ اس کو  دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر  قربانی  کا  حصہ ملا  تا کہ وہ قربانی کر سکے   یہاں تک  کہ قربانی کے ایام گزر گئے اب زید کیا کرے ، شرعا اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

جواب

           جو صاحب استطاعت شخص قربانی واجب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے  ،یہاں تک کہ قربانی کا وقت گزر جائے ،جو بارہویں  ذی الحجہ کے غروب تک کا وقت ہے تو اب اس کی قضا کی صورت یہ ہے  کہ ایک  بکری کی قیمت کے بقدر پیسے صدقہ کرے۔اس کی بجائے آئندہ سال قربانی کرنے سے ذمہ فارغ نہیں ہوگا ،بلکہ  اب اس کے ذمے قیمت صدقہ کرنا ہی متعین ہے ۔

 

ولو كان موسرا في جميع الوقت فلم يضح حتى مضى الوقت ثم صار فقيرا صار قيمة شاة صالحة للأضحية دينا في ذمته يتصدق بها متى وجدها۔(بدائع الصنائع، كتاب التضحية،فصل  في كيفيةالوجوب ،ج6،ص289)


فتویٰ نمبر : 9095/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں