بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

جنات کا انسانوں کوکسی چیز کے بارے میں خبردینا


سوال

جنات کا انسانوں کے پاس آنا جانا،فیصلہ کرنااور کسی کو یہ کہناکہ فلاں نے آپ کا حق معاف کیا۔کیا شریعت کی رو سے یہ معتبر ہے یا نہیں؟

جواب

              قرآن کریم سے جنات کا وجود ثابت ہےاور یہ مشاہدات سے بھی ثابت ہے۔جہاں تک جنات کاکسی چیزیا واقعہ کے بارے میں خبر دینے کا تعلق ہے ، سو فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق ماضی یا حال سے متعلق کسی بات کے بارے میں جنات کی خبریں فقط ظن کے درجہ میں ہیں،باعثِ یقین نہیں،یعنی اس میں صدق اور کذب دونوں کا احتما ل ہوتا ہے،لہٰذا کسی چیزیا واقعہ کے ثبوت کے لیے محض جنات کی خبریں کافی نہیں۔

 

وكذلك إذا كان يسمع ما يقولون ويخبرون به عن الجن كما يسمع المسلمون ما يقوله الكفار والفجار ليعرفوا ما عندهم فكما يسمع خبر الفاسق ويتبين ويتثبت فلا يجزم بصدقه ولا بكذبه إلا ببينة كما قال الله تعالى {إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا}۔۔۔قلت لا شك أن الله تعالى أقدر الجن على قطع المسافة الطويلة في الزمن القصير بدليل قوله تعالى {قال عفريت من الجن أنا آتيك به قبل أن تقوم من مقامك} فإذا سأل سائل عن حادثة وقعت أو شخص في بلد بعيد فمن الجائز أن يكون الجني عنده علم من تلك الحادثة وحال ذلك الشخص فيخبر ومن الجائز أن لا يكون عنده علم فيذهب ويكشف ثم يعود فيخبر ومعه هذا فهو خبر واحد لا يفيد غير الظن ولا يترتب عليه حكم غير الاستئناس۔ (آکام المرجان فی احکام الجان،الباب الثامن الستون،ص:138)


فتویٰ نمبر : 4971/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں