بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

جماعت کی نماز میں بعض صفوں کو خالی چھوڑنا


سوال

کیا باجماعت نماز میں برآمدے میں جگہ ہوتے ہوئے مسجد کی صحن میں صفیں بنانا درست ہےیا نہیں؟

جواب

           احادیث مبارکہ میں صفوں کے اتصال کے متعلق بڑی تاکید آئی ہےاور اس کے خلاف کرنے پر بڑی وعید وارد ہوئی ہے،یہی وجہ ہےکہ نماز کے دوران بھی اگلی صف کےخلا کو پُر کرناچاہیے۔فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر اگلی صفوں میں جگہ خالی ہوتو پیچھے صفیں بنانا کراہت سے خالی نہیں اس لیے بلا کسی عذر کے ایسا کرنے سے احترا ز کرنا چاہیے۔

         صورت مسئولہ کےمطابق اگرباجماعت نماز کے دوران برآمدے میں جگہ ہوتے ہوئے مسجد کی صحن میں صفیں بنائی جائیں جب کہ صحن مسجد کی حدود میں داخل ہوتوایسی صورت میں صفوں کے مابین خلا چھوڑنے کی وجہ سےنماز کراہت سے خالی نہیں۔

 

عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أتموا الصف المقدم، ثم الذي يليه، فما كان من نقص فليكن في الصف المؤخر(سنن ابی داود،کتاب الصلوٰۃ،باب تسوية الصفوف،ج:1،ص:117)

عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى في أصحابه تأخرا فقال لهم: «تقدموا فأتموا بي، وليأتم بكم من بعدكم، لا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله۔(صحیح مسلم،کتاب الصلوٰۃ،باب تسویۃ الصفوف،ج:1،ص:221)

وفي القنية قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه ليصل الصفوف لأنه أسقط حرمة نفسه فلا يأثم المار بين يديه۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،ج:2،ص:312)۔


فتویٰ نمبر : 9136/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں