بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عقد ِشرکت میں نفع ونقصان کی تقسیم


سوال

دو آدمی ایک کاروبار(موٹر سائیکلوں  کی خرید وفروخت)میں سرمایہ کی بدولت شریک ہیں،ایک شریک کے ایک کروڑ روپے،جب کہ  دوسرے شریک کے بیس لاکھ روپے  ہیں۔خرید وفروخت کی خدمات صرف بیس لاکھ والا  شریک  سرانجام دیتا ہے۔نقصان  میں باہمی معاہدہ یہ طے ہوا ہے کہ ایک کروڑ والے شریک پر  ستر(70)فی صد، جب کہ بیس لاکھ والے  شریک پر  تیس فی صد نقصان کی ذمہ داری  عائد ہوگی ۔نیز نفع  کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہوگی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً یہ کاروبار جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ افراد مشترکہ سرمایہ سے اس طور پرکاروبار شروع کریں کہ منافع ان کے درمیان  مشترک ہوں گےتو یہ شرکت کہلاتی ہےخواہ تمام شرکا کام کرتے ہوں یا ایک شریک کام کرتا ہواور باقی شرکا کا صرف سرمایہ ہو۔جہاں تک  منافع تقسیم کرنے کا طریقہ ہے تو معاہدہ کرتے وقت  فریقین باہمی رضامندی سے  جو شرح  طے کرنا  چاہیں ،کرسکتے ہیں البتہ اس بات کی رعایت رکھنا شرعاً ضروری ہےکہ تمام منافع شرکا کے درمیان فی صد کے لحاظ سے تقسیم کیے جائیں کسی شریک کے لیے متعین رقم مثلاً؛دس ہزار روپے بطور ِ نفع  طے نہ کیے جائیں،نیز اگر کسی شریک  کے لیے کام نہ کرنے کی شرط  لگائی جائے تو اس کے لیے سرمایہ کاری کے تناسب سے زیادہ منافع مقرر کرنا  جائز نہیں،ہاں اگر  کسی شریک پر عمل کی شرط  لگائی گئی ہوتو اس لیے سرمایہ کے تناسب سے  زیادہ منافع کی شرط لگانا جائز ہے۔البتہ حقیقی نقصان بہر صورت ہر شریک پر اس کے سرمایہ کے تناسب سے آئے گا۔

          صورت ِ مسؤلہ میں حسب ِ سوال    شرکا کا  باہمی رضامندی سے  بیس لاکھ والے  شریک کو منافع  میں سے تیس فی صد  نفع دینے کی شرط اور ایک کروڑ والے  شریک کے لیے  ستر(70)فی صد  نفع دینے کی شرط جائز ہے، کیونکہ بیس لاکھ والاشریک عمل بھی کررہاہے۔ البتہ نقصان میں  ایک کروڑ والے پر ستر فی صد  جب کہ بیس لاکھ  والے  شریک پر تیس فی صد  نقصان  لازم کرنے کا معاہدہ  شرعاً درست نہیں کیونکہ شریعت میں نقصان کی ذمہ داری  سرمایہ کے  تناسب سے عائد ہوتی ہےاور یہاں کل سرمایہ (ایک کروڑ بیس لاکھ)  میں سے  بیس لاکھ والے شریک  کا سرمایہ  16.666فی صد بنتا ہے جب کہ ایک کروڑ والے شریک کا سرمایہ 83.333 فی صد بنتا ہے  یوں بیس لاکھ والے شریک پرحقیقی نقصان کی ذمہ داری  16.666فی صد  جب کہ ایک کروڑ والے شریک  پر 83.333کے حساب سے  عائد ہوگی۔

 

وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح جاز والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال ولا عمل ولا ضمان وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة۔(بدائع الصنائع،كتاب الشركة،فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع،ج:7،ص:518)

وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط۔(الدرالمختاروحاشية ابن عابدين، مطلب في توقيت الشركة روايتان،ج:4،ص:312)


فتویٰ نمبر : 3000/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں