بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عیب دار قربانی میں فقرا اور اغنیا کی شرکت


سوال

 اگر قربانی کے جانور میں سات افراد شریک ہو جائیں جن میں سے پانچ مالدار اور دو فقیر ہوں اور قربانی کے ایام  کے قریب  وہ جانور اس طرح معیوب ہو جائے کہ قربانی کا اہل نہ رہ جا ئے تو وہ جانور چونکہ مالدار کے حق میں متعین نہیں ہے اور فقرا کے حق میں متعین ہو چکا ہے ، اس میں چونکہ روح ہے جو تقسیم نہیں ہو سکتی لہذا اس مسئلے کا شرعی حل کیا ہے ؟

جواب

               شرعی نقطہ نظر سے قربانی کے جانور کے لیے عیوب فاحشہ سے پاک ہونا ضروری ہے اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے کہ جس عیب سے جانور کی کوئی مخصوص منفعت یا خوبصورتی بالکل ختم ہو جائے تو اس عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہو گی اوراگرعیب اس درجے کا نہ ہو تو قربانی جائز ہو گی ۔ البتہ ان عیوب سے مالداروں کی قربانی پر اثر پڑے گا ، جہاں تک فقرا کی بات ہے تو ان کے لیے عیب دار جانوروں کی قربانی بھی جائز ہے اس لیے کہ ان پر شریعت  کی طرف سے قربانی واجب  نہیں۔

            لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق قربانی کے جانور میں موجود  پانچ مالدار شرکاکے حق میں یہ معیوب قربانی   جائز نہیں ان پر دوسرے صحیح جانور کی  قربانی کرنا  ضروری ہے ، البتہ دو سرے غریب شرکا کے حق میں اس  عیب دار جانور کی قربانی بھی جائز ہے، تا ہم  چونکہ یہ جانور فقرا اور اغنیا کے مابین مشتر ک ہے تو اگر مالدار بھی اس جانور کی قربانی پر راضی ہیں  تو غربا کی طرف سے وجوبا اور اغنیا کی طرف سے  استحبابی طور پر ادا ہو جائے گی البتہ اگر اغنیا راضی نہ ہوں تو چونکہ مکمل جانور غربا کی ملکیت میں نہیں ،لہذا اس کو فروخت کر کے اغنیا کے حصوں کے بقدر رقم واپس کر دی جائے اور غربا کے حصوں کو صدقہ کر  دیا جائے۔

 

(وأما صفته) : فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة۔۔۔ ولو اشترى أضحية وهي صحيحة العين، ثم اعورت عنده وهو موسر أو قطعت أذنها كلها أو أليتها أو ذنبها أو انكسرت رجلها فلم تستطع أن تمشي لا تجزي عنه، وعليه مكانها أخرى بخلاف الفقير، وكذلك لو ماتت عنده أو سرقت۔۔۔ ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال۔ (الفتاوی الهندية،كتاب الاضحية، الباب الخامس في محل اقامة الواجب، ج:5،ص299،297)

يتعين للأضحية بالشراء؛ لأن الشراء من الفقير بنية الأضحية بمنزلة النذر عرفا، وعادة؛ لأنا لا نجد في العرف فقيرا اشترى شيئا للأضحية إلا ويضحي بها لا محالة فكان بها ملتزما۔(تبيين الحقائق،كتاب الاضحية،ج:6،ص478)


فتویٰ نمبر : 9147/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں