بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عالم کا غیر عالم کی اقتدا میں نما زپڑھنا


سوال

کیا عالم کی نماز غیر عالم (منشی)کے پیچھے ہوجاتی ہے؟جب کہ گاؤں والے منشی کے پیچھے ہی نما زپڑھتے ہیں کیونکہ وہ ان کےعقیدہ (بریلویت)کے مطابق ہےجب کہ وہ عالم دیوبندی ہےتو کیاعالم اس منشی کےپیچھے نماز پڑھے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ جو آدمی نمازکے مسائل اچھی طرح جانتا ہواورجس قدر قراءت کرنا مسنون ہے،اتنی مقدار اسے یادہو،نیز کبیرہ گناہوں سے بھی اجتناب کرتاہوتووہ امامت کرواسکتا ہے،البتہ افضل یہ ہے کہ وہ عالم اور قاری بھی ہو۔

             لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرغیرعالم امام نماز کے فرائض وواجبات کی رعایت رکھتے ہوئےنماز پڑھاتاہوتو اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے، تاہم اگر مستند عالم دین میسر ہو تواسےامام بنانازیادہ بہتر ہے۔

 

(والأحق بالإمامۃ )تقدیما بل نصبامجمع الانھٰر۔(الأعلم باحکام الصلوٰۃفقط) صحۃ وفساداوحفظہ قدر فرض (ثم الأحسن تلاوۃ)وتجویدا للقراءۃ (ثم الاورع)۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،باب الإمامۃ،ج:2،ص:294)

قال المرغینانی:تجوز الصلوٰۃ خلف ھوی وبدعۃ،۔۔۔وحاصلہ:ان کان ھوی لا یکفربہ صاحبہ،تجوز الصلوٰۃ خلفہ مع الکراھۃ،والا فلا۔۔۔ولو صلی خلف َمبتدع أو فاسق فھو محرز ثواب الجماعۃ،لکن لا ینال مثل ما ینال خلف تقی۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس،الفصل الثالث،ج:1،ص:141)۔


فتویٰ نمبر : 9089/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں