بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کورونا کی وجہ سے حج پر نہ جانے سے فرضیت کا سقوط


سوال

ایک آدمی نے کوروناسے پہلے حج کے لیےبینک میں رقم جمع کیا  لیکن حج آنے سے پہلے ہی حج پر پابندی لگ گئی تھی اور وہ حج پر نہ جاسکا اب اس کی وہ رقم توابھی تک بینک میں جمع ہے لیکن حج آٹھ لاکھ کا ہوگیا ہے اور اس کے پاس مزید پیسے بھی نہیں ہیں اب اس صورت میں اس پرحج فرض ہے یا نہیں؟

جواب

              شریعت نے حج کی فرضیت کے لیے استطاعت  کو شرط قرار دیا ہے ، اور استطاعت سے مراد محض مال کی فراہمی نہیں بلکہ غیر مکی کے لیے اس کے ساتھ ساتھ عملی طور پر سواری وغیرہ پر قادر  ہونا بھی اس میں داخل ہے جب تک سواری میسر نہ ہوسکے تب تک آدمی صاحب استطاعت نہیں کہلاتا ، موجودہ حالات میں حج اخراجات فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر ویزہ ملنا بھی استطاعت میں  داخل ہے لہذا اپنی طرف سے حج درخواست دینے کے بعد جب کورونا جیسی وبا کی وجہ سے اس کا جانا ممکن نہ ہوا تو ایسا شخص سواری پر قادر شمار نہیں ہوگا ۔لہذا اگر اگلے سال حج کے ایام داخلہ  کےوقت میں بینک كے اخراجات بڑھنے کی  وجہ سے موجودہ  حج اخراجات کے لیے کافی نہ ہو تو ایسی صورت  میں جب تک دوبارہ  حج کے اخراجات  کی رقم فراہم نہ ہوجائے  اس وقت تک اس پر حج فرض نہیں ہے ۔البتہ اگر اس شخص کو کسی زمانے میں حج ادا کرنے کی قدرت حاصل ہوگئی تھی لیکن  استطاعت کےباوجود حج ادا نہیں کیا تھا  اور بعد میں استطاعت نہ رہا یااستطاعت رکھنے کے باوجودکسی رکاوٹ سے حج پر نہ جاسکا تو  اس کے ذمہ  فرض حج باقی ہوگا۔

 

وإنما فسر النبي - صلى الله عليه وسلم - الاستطاعة ‌بالزاد، ‌والراحلة لكونهما من الأسباب الموصلة إلى الحج لا لاقتصار الاستطاعة عليهما.(ألا ترى) : أنه إذا كان بينه، وبين مكة بحر زاخر لا سفينة ثمة، أو عدو حائل يحول بينه، وبين الوصول إلى البيت لا يجب عليه الحج مع وجود الزاد، والراحلة فثبت أن تخصيص الزاد، والراحلة ليس لاقتصار الشرط عليهما بل للتنبيه على أسباب الإمكان۔(بدائع الصنائع،كتاب الحج ،فصل في شرائط فرضيته،ج:3،ص:51)

لو ملك ما به الاستطاعة ۔۔۔ فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر الحج في ذمته دينا عليه (الفتاوی الهندية، کتاب المناسک،الباب الاول  فی تفسیر الحج۔۔۔،ج:1،ص:280)

السادس: الاستطاعة وهي القدرة علي زاد يليق بحاله ولو لمكي ملكا لابالاباحة وعلي راحلة مختصة به لغير مكي ومن حولها بالملك اوالاجارة لا بالاباحة اوالاعارة ۔(غنيةالناسك، ص: 17)


فتویٰ نمبر : 9097/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں