بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حیض کی وجہ سے کفارہ یمین کے روزوں میں تسلسل برقرار نہ رہنا


سوال

اگر کوئی عورت قسم کے کفارے کے روزہ رکھے اور اس درمیان حیض آجائےتو کیا روزے ازسر نو رکھناضروری ہے ؟

جواب

         واضح رہے کہ کفارہ یمین میں مسلسل تین روزے رکھنا ضروری ہے۔درمیان میں ایک روزہ بھی اگر کسی  عذر کی بنا پر یا بغیر  عذر  کے رہ جائے تو کفارہ ادا نہ ہوگا ،بلکہ از سر نو روزے رکھے جائیں گے۔

        لہذا مذکورہ صورت  کے مطابق اگر  حیض کی وجہ سے کفارہ کے روزوں میں تسلسل کی شرط برقرار نہ رہے توکفارہ ادا نہیں  ہوگا ، لہذا ازسرنو روزے رکھنے ہونگے۔

 

قال ولو كان الصوم لكفارة اليمين فحاضت فانها تستأنف صومها اذا طهرت لانها تقدر ان تصوم ثلاثة ايام من غير حيض (النتف فی الفتاوی،مطلب فی انواع الصوم،ج1،ص145)


فتویٰ نمبر : 9079/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں