بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ہبہ دےکربيوی اور اولاد کو میراث سے محروم کرنا


سوال

ایک شخص  نے شادی کی اس سے چار بچےہوئےوہ ان سے تنگ تھا تو اس نے دوسری شادی کی اس سے بھی چار اولاد ہوئی ۔  اب اس شخص نے پہلی بیوی اور اس کی اولاد سے کہاکہ آپ چلے جاؤ میرا اور تمھارا تعلق نہیں  ،پہلی بیوی کی اولاد نے اپنا حصہ مانگا ،ان کا والد ارب پتی کڑوڑ پتی تھا لیکن سود کا مال تھا ۔تو والد نے کہا میں تمہیں نہیں دونگا ۔ خیر رشتہ داروں کی رضامندی سے والد نے پہلی والی بیوی اور اولاد کو 60 لاکھ روپے دے دیے ۔اور خط لکھا اب  یہ لے لو  اس کے  بعد میرا سارا  مال وجائیداد دوسری بیوی بچوں کےلیے ۔اب کچھ عرصہ قبل اس شخص کا انتقال ہوا ہے۔ اب مسئلہ یہ آیا کہ پہلی بیوی  کی اولاد از سر نو دوبارہ اپنا   حصہ طلب کررہے ہیں اب سوال یہ ہے کہ یہ مال کے حقدار ہونگے یا نہیں ؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے  ہر شخص کو  اپنی مملوکہ جائیدادمیں ہر قسم کے جائز تصرفات کا حق حاصل ہے ۔ اگر کوئی شخص حالت صحت میں بقائےہوش کے ساتھ ایسا کرے کہ اپنی مملوکہ جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرے اور تملیک کراکر قبضہ دیدے تو اس کو ہبہ کہا جاتا ہے ۔یہ میراث کی تقسیم نہیں ۔

             صورت مسؤلہ میں  جب والد نے اپنی حیات میں 60لاکھ روپے پہلی بیوی  اور اس کے بچوں  کو  بطور ہبہ دیےاور انہوں نے اس پر باقاعدہ قبضہ کر لیا تو اس میں ان کی ملکیت ثابت ہوگئ اور چونکہ   یہ میراث  نہیں  ،اس لیے مرحوم کے میراث میں دونوں بیویوں اور دونوں کی اولادکا حصہ ہو گا،کیونکہ ہبہ کرنےسےمیراث کےحصہ سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

 

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة ". رواه ابن ماجه (مشكاة المصابيح،كتاب الوصايا،الفصل الاول،ج2،ص197)

رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهنديه،الباب السادس فی الهبة الصغیر،ج:4،ص:391 )                                


فتویٰ نمبر : 4967/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں