بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ورثا کے لیےمورث کی خواہش پوری کرنے کا حکم


سوال

اگرایک شخص کے باپ نے یہ وصیت کی ہو  کہ میں اس ۱۰ مرلے پلاٹ میں مسجد بناوں گا ، اور وہ فوت ہو گیا ، تو کیا  اب اس جگہ مسجد کے بجائے مدرسہ  بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس جگہ میں مسجد پہلے سے موجود ہے کسی اور مسجد کی ضرورت نہیں؟

جواب

          اپنی موت کے بعدکوئی کام کروانےکا حکم دینے  کو  وصیت کہتے ہے۔ اگر کسی کی دلی خواہش  کوئی کام کرنے کی ہو اور وہ پوری نہ کر سکےاور کسی کو اس کے پورا کرنا کا حکم بھی نہیں دیا ہوتو اس پر وصیت کا اطلاق نہیں ہوتا  ۔

           صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص  کے باپ کی یہ بات وصیت شمار نہیں کی جاسکتی، بلکہ  محض اس کی ایک دلی خواہش تھی ،جس کا اظہار اس نے اپنی زندگی میں کیا تھا،چنانچہ اگرورثاءکوموت کے بعد اس کے پورا کرنے کا حکم نہ دیا ہو تو یہ پلاٹ ورثاء کی ملکیت ہے۔ وہ چاہیں تو اس میں مدرسہ بنادیں یا کسی اور مصرف میں استعمال کریں ان کو اختیار حا صل ہے۔

 

ھی تملیک مضاف الی ما بعد الموت۔(رد المحتار، کتاب الوصایا: ج10،ص335)


فتویٰ نمبر : 3239/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں