بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا زکوۃکی رقم خود لینا


سوال

اگر مزکی نے کسی شخص کو زکوۃ کی ادائیگی کے لئےوکیل بناتے ہوئےیہ کہا کہ جہاںمناسب سمجھو اس کو خرچ کرو ،اور وکیل خود بھی فقیر ہے تو کیاوکیل اس مال میں سے اپنےاوپر خرچ کر سکتاہےیا نہیں؟

جواب

            اگر وکیل کو اس شرط پر زکوۃ کی رقم دی گئ ہو کہ اس کو مخصوص افرادیا مخصوص ادارے تک پہنچائے تو ایسی صورت میں زکوۃ کی رقم ذاتی طور پر خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی،اس صورت میں وکیل اس کا ضامن ہو گا ،لیکن اگر مزکی نےمطلقا اختیار دیاہوکہ جہاں تومناسب سمجھے،یہ زکوۃ خرچ کرو تو اسں طرح اجازت کےبعد اگر وکیل خود زکوۃ کامستحق  ہو تو زکوۃ اپنے لیے قبض کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔         

           لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق وکیل اگر مستحق زکوۃ ہے تو وہ خود بھی زکوۃ کا مال استعمال  کرسکتاہے۔

 

وللوكيل أن يدفع لولده الفقير،وزوجته لا لنفسه إلاإذا قال ربها ضعها حيث شئت۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الزكوة،ج:3،ص:189،188)


فتویٰ نمبر : 9076/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں