بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کے نصاب میں تغیر کرنا


سوال

آج کل  مہنگا ئی اور ضرورت اصلیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے  زکوۃکا جو نصا ب بیان کیاگیاہے اس میں تغیر کی کوئی گنجائش ہےیا نہیں؟

جواب

            احادیث مبارکہ میں نبی کریمﷺنےزکوۃ کا جو نصاب بیان کیا ہے( یعنی سونے کی وہ مقدار جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے بیس دینار(مثقال)ہےجس کی مقدار رائج الوقت اوزان کےمطابق ساڑھے سات تولہ،یعنی 87.48گرام ہے۔چاندی کی مقداردوسودرھم ہے،جس کی رائج الوقت مقدار ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام ہے)چونکہ یہ نصاب  نص  سےثابت ہےاور منصوص علیہ میں کسی تغییر کی گنجائش نہیں ہوتی ،تاہم فقہائے کرام نے  فقراء کی منفعت کومد نظر رکھتے ہوئے غنا کے لیے چاندی کا نصاب مقررکیاہےاوراسی پرتعامل چلا آرہا ہے اس لیے اس میں تغیر نہیں ہوسکتا۔

            لہذا آج کل مہنگائی اور ضرورت اصلیہ کومد نظر رکھتے ہوئے زکوۃ کا جو نصاب بیان کیا گیا ہے اسی نصاب کے مطابق زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے۔

 

أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم.وروي عنه - صلى الله عليه وسلم - أنه قال لمعاذ لما بعثه إلى اليمن ليس فيما دون مائتين من الورق شيء، وفي مائتين خمسة،(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في بيان مقدارالنصاب في الذهب والفضة،ج2،ص:405)


فتویٰ نمبر : 9132/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں