بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
معتکف آدمی کا غیر معتکف کو دوران وضو سلام کا جواب دینا
سوال
اگر معتکف وضو کر رہا ہو اور غیر معتکف اس کو سلام کرے تو کیا جواب دینا لازمی ہے؟
جواب
سلام کرنا ایک مسنون عمل ہے تا ہم بعض جگہیں ایسی ہیں جو سلام کرنے اور جواب دینے کے لیے مناسب نہیں کیونکہ سلام میں دعا اور ذکر کا مفہوم ہوتا ہےاس لیے ان مقامات میں فقہاے کرام نے سلام کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص وضو کر رہا ہو اور دوران وضو اس پر کوئی سلام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ سلام کا جواب دے ،اس میں معتکف اور غیر معتکف دونوں برابر ہیں کیونکہ معتکف اگرچہ دنیاوی بات چیت سے احتراز کرے گالیکن سلام کا جواب دے سکتا ہے۔
رد السلام واجب إلا على ... من في الصلاة أو بأكل شغلاأو شرب أو قراءة أو أدعيه ... أو ذكر أو في خطبة أو تلبيهأو في قضاء حاجة الإنسان ... أو في إقامة أو الآذانأو سلم الطفل أو السكران ... أو شابة يخشى بها افتتانأو فاسق أو ناعس أو نائم ... أو حالة الجماع أو تحاكمأو كان في الحمام أو مجنونا ... فواحد من بعدها عشرونا.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلوة،باب مايفسد الصلوة وما يكره،مطلب مواضع التي لا يجب فيها رد السلام،ج:1،ص:618)
يكره السلام على العاجز عن الجواب حقيقة كالمشغول بالأكل أو الاستفراغ، أو شرعا كالمشغول بالصلاة وقراءة القرآن، ولو سلم لا يستحق الجواب.(رد الحتار على الدر المختار،كتاب الصلوة،باب ما يفسد الصلوة وما يكرهن فيها،ج:1،ص:617)
(و) عدم (التكلم بكلام الناس) إلا لحاجة تفوته.(الدر المختار شرح تنوير الابصار،باب اركان الوضوء اربعة،ج:1،ص:23)
ولا بأس أن يتحدث بما لا إثم فيه كذا في شرح الطحاوي.(الفتاوى الهندية،كتاب الصوم،باب الاعتكاف،ج:1،ص:275)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں