بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

فیکٹری کی مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم


سوال

میں ایک ایسی فیکٹری میں کام کرتا ہوں جس میں تقریبا پندرہ ہزار لوگ تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور دن کے وقت کام کرنے والوں کی تعداد 6ہزار ہے اس فیکٹری میں ایک بڑی مسجد اور 13 نماز کے کمرے ہیں ١۔مسجد میں امام مقرر ہے لیکن مؤذن نہیں ٢۔ مسجد میں صرف تین وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے ٣۔ شفٹیں بدلنے کی وجہ سے اس مسجد کے اکثر نمازی بھی مخصوص نہیں ٤۔ فیکٹری میں ورکر صرف کام کے لیے آتےہیں رہائش کا انتظام بالکل نہیں ہے ٥۔ مسجد اور اس کے اطراف میں بیک وقت تقریبا 1800 افرادکے نماز ادا کرنے کی گنجائش  ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیاشرعا ایسی مسجد میں متعدد یعنی دو یا تین مرتبہ نمازجمعہ کی ادائیگی کی گنجا ئش ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ میں ایسی مسجدمیں ایک نماز کی  دو جماعتیں مکروہ ہیں جو اہل مخلہ کی مسجد ہوں جہاں امام اور مؤذن مقرر ہوں اور اس کے مخصوص نمازی ہوں اور جہاں  یہ شرائط موجود نہ ہوں تو وہاں جماعت  ثانیہ پڑھنا جائز ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی اس مسجد کے نمازی مخصوص نہیں ہیں اورنہ  اس کا مؤذن مقرر  ہےاور مسجد اور مسجد کے اطراف میں اتنی جگہ نہیں ہےاور نہ قریب میں اتنا بڑا میدان موجود ہےجہاں سارے  نمازی ایک ہی دفعہ میں  جماعت پڑھ لیں تو ایسی مسجد میں جمعہ کی جماعت ثانیہ پڑھنے کی گنجائش  ہے۔

 

ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الصلوة،باب الامامة،مطلب مي تكرار الجماعة مي المسجدج:2،ص:288)


فتویٰ نمبر : 9085/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں