بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پیشانی پر سیاہ نشان کاحکم


سوال

کیا پیشانی پر سجدہ کی وجہ سے پڑھنے والا سیاہ نشان   بزرگی کی علامت ہے ہمارے ہاں اسے نیکی کی علامت تصورکیا جاتاہےنیز اس نشان کا تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے یا نہیں؟

جواب

           کثرت سجود کی وجہ سے بعض لوگوں کے  پیشانی پر سیاہ نشان بنتاہے اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہے  جو کثرت سجود کے باوجود ان کی پیشانیوں پر سیاہ نشان نہیں  بنتا،لہذا بزرگی کے لیے اس علامت کا ہونا ضروری نہیں ہےچونکہ اس نشان کے متعلق قرآن  و حدیث میں کوئی تصریح موجود نہیں ،تاہم قرآن مجید میں نماز پڑنے والوں کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان کے چہروں پر سجدوں کی وجہ سے اثر ہوگا  اور اس سے مراد اکثر مفسرین نے قیامت کے دن نور مراد لیا ہے ،البتہ تفسیر خازن اوربعض دوسرے تفاسیرمیں اس کی توجیہ یہ مذکور ہے کہ اس سے  پیشانی پر  سجدہ کی وجہ سے پڑھنے والا  سیاہ نشان  مراد ہے۔اس لیے اگر سجدو ں کی وجہ سےپیشانی پر نشان بنے تو اس شخص کےحق میں  سعادت مندی ہوگی، لیکن اس کو ولایت کے لیے ضروری قرار دینا درست نہیں ۔

 

سِيماهُمْ، أَيْ عَلَامَتُهُمْ، فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ۔۔۔فَقَالَ قَوْمٌ: هُوَ نُورٌ وَبَيَاضٌ فِي وُجُوهِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُونَ بِهِ أَنَّهُمْ سَجَدُوا فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ رِوَايَةُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ: اسْتَنَارَتْ وُجُوهُهُمْ مِنْ كَثْرَةِ مَا صَلُّوا.وَقَالَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ: تَكُونُ مَوَاضِعُ السُّجُودِ مِنْ وُجُوهِهِمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ.(تفسير البغوي،ج:4،ص:245)

(سيماهم)أي علامتهم(في وجوههم من أثرالسجود)۔۔۔قيل هوأثرالتراب علی الجباه لأنهم كانوا يصلون علی التراب لا علی الأثواب۔(تفسيرالخازن،ج:4،ص:173)


فتویٰ نمبر : 5013/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں