بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بھائی کو زکوۃ دینا


سوال

ہم دس بھائی ہیں اور والد صاحب حیات ہے ۔ہم  چار بھائی الگ ہیں  جبکہ باقی بھائی اکھٹے رہ رہے ہیں۔واضح ہو کہ بٹوارے  میں ہمیں کچھ نہیں ملا ہے کہ جس میں ہمارا  اشتراک ہو اور نہ ہمارا کوئی مشترکہ کاروبار ہے ۔ پوچھنا یہ تھا کہ ہمارا  بڑا بھائی مالی طور پر ظاہرا کچھ کمزور ہے  جس کی وجہ سے وہ عید پر قربانی نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ مجھ پر قربانی واجب نہیں ہے ۔والد صاحب اور دیگر بھائیوں نے بڑے بھائی کی معا ونت میرے ذمے لگائی ہے ۔میں گذشتہ آٹھ سالوں سےاپنی تنخواہ سے ہر ماہ ایک مخصوص رقم  اس کو بھجواتا ہوں  اور اس رقم کو وہ اپنا حق سمجھ بیٹھا ہے ۔اگر وہ رقم میں اس کو یا اس کی اولاد کو  زکواۃ کی نیت سے دوں تو کیا میری زکواۃ ادا ہو جائیگی یا اس کو بتانا لازمی ہے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب

          جو شخص غریب اور ضرورت مند ہو یعنی اس کی ملکیت میں  نصاب کے بقدر مال نہ ہو نیز وہ سید اور ہاشمی  بھی نہ ہوتو ایسے شخص کو زکواۃ دینا جائز ہے۔

           صورت مسئولہ میں اگر سائل کے ذمہ بھائی کا واجب الادارقم(قرض وغیرہ) نہ ہو بلکہ وہ اپنی طرف سے احسان کرکے اس کو ہر مہینے تنخواہ میں سے کچھ دیتا ہو اور بھائی مستحق زکواۃ بھی ہو تو شرعا اس کو   حسب بیان تعاون کی مد میں زکواۃ دینا جائز ہے نیز اس کو بتانا ضروری نہیں ہے۔

 

وَيَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إلَى من سِوَى الْوَالِدَيْنِ وَالْمَوْلُودِينَ من الْأَقَارِبِ وَمِنْ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ وَغَيْرِهِمْ لِانْقِطَاعِ مَنَافِعِ الْأَمْلَاكِ بَيْنَهُمْ۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،ج:2،ص:50)

وشرط صحة أدائها نية مقارنة له أي للأداء ولو كانت المقارنة حكما كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:268)


فتویٰ نمبر : 9150/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں