بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرمت رضاعت کی نصاب شہادت


سوال

میری بہن کا میرے خالہ زاد بھائی کیلئے رشتہ آیا ہے ،میری والدہ کا کہناہے  کہ خالہ نے میری بہن کو دودھ پلایا  تھا؛لہذا حرمت رضاعت  ثابت ہے ،جب کہ میری خالہ  دودھ پلانے کا سرے سے انکاری ہے ،میری والدہ   کے علاوہ اور کوئی گواہ نہیں ہے ،اب آیا محض ایک عورت کی  گواہی سے حرمت رضاعت ثابت  ہو جا تی ہےیا نہیں  ؟اور اگر آئندہ مزید  کوئی گواہ سامنے آجائے  تو اس کی گواہی معتبر ہوگی یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ رضاعت ثابت کرنے کےلیے شرعا شہادت شرعیہ درکار ہوتی ہے اور شہادت شرعیہ دو عادل  (قابل اعتماد مسلمان )مردوں یا ایک عادل آدمی اور دو عادل  عورتوں کی گواہی کا نام ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  محض ایک عورت  کی گواہی سے حرمت ر ضاعت ثابت نہیں ہوگی ،چنانچہ  سائل کی بہن کا رشتہ اس کے خالہ زاد کے ساتھ جائز ہوگا بشرطیکہ حرمت کا کوئی دوسرا سبب موجود نہ ہو۔لیکن اگر  آئندہ رضاعت کا ثبوت  شرعی  گواہان  سے ہوا  تو ان کی گواہی معتبر ہوگی ۔

 

حجته حجة المال وهی شھادۃ عدلین اوعدل وعدلتين وافاد انه لايثبت بخبرالواحد امراة كان او رجلا قبل العقد او بعده۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الرضاع،ج:4،ص:420)

والحاصل أن الرواية قد اختلفت في إخبار الواحدةوكذا الإخبار برضاع طارىءرفليكن هو المعتمد في المذهب هو أن الملك للزوج فيها ثابت والملك الثابت لا يبطل بخبر الواحد۔
(البحرالرائق،كتاب الرضاع،ج:3،ص:250)


فتویٰ نمبر : 6426/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں