بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عملیات میں جنات کو تابع بنانا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں  کہ عملیات کی دنیا میں عاملین حضرات کے ساتھ موکل ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ عامل حضرات جنات وجادو توڑنے کا کام لیتےہیں اس کے بارے میں کچھ بتائیں کہ اس طرح کے عمل کرنا کیسا ہے ؟

جواب

         واضح رہے کہ جنات وشیاطین کو دوسروں کو ضرر پہنچانے کیلئے تابع کرنا درست نہیں ہے  اور نہ یہ عملیات کرنا درست ہیں نیزاس میں خطرات بھی ہیں۔البتہ جنات وشیاطین کے شر سے تحفظ کیلئے جائز عملیات کرنا  درست ہے اور دفع ظلم کیلئے بھی جائز ہے۔

        لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جو عملیات دوسروں کو ضرر پہنچانے کیلئے کيے جاتے ہیں وہ جائز نہیں ہے البتہ جو عملیات دفع ظلم اورجنات و شیاطین  کے شر سے تحفظ کیلئے کيے جاتے ہیں وہ درست اور جائز ہیں۔

 

"وأما ما کان من الآیات القرآنیة والأسماء والصفات الربانیة والدعوات الماثورۃالنبویة،فلا بأس،بل یستحب،سواء کان تعویذا أو رقیة أونشرۃ۔"(مرقاۃالمفاتیح،کتاب الطب والرقی،الفصل الثانی،رقم الحدیث:4553،ج:8،ص:321)

"الضرورات تبیح المحظورات،من ثم جاز أکل المیتةعند المخمصة واللفظ بکلمةالکفر عندالإکراہ"۔(الأشباہ والنظائر،القاعدۃالخامسة:الضرریزال،ج:1،ص:251)


فتویٰ نمبر : 5008/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں