بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رشوت دینے والی کمپنی میں ملازمت کرنا


سوال

 میں ایک سیکورٹی کمپنی میں کمپیوٹر آپریٹر ہوں اور یہ کمپنی لیبر ڈیپارٹمنٹ کو رشوت دیتی ہے اسی طرح اور ناجائز کام بھی کرتی ہے، بعض اوقات ہم سے بھی کچھ ایسے کام کروائے جاتے ہیں جو ہمیں مجبوراً کرنا پڑھتے ہیں، توکیا ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے؟

جواب

             کسی اِدارے میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اِس بات پر ہے کہ وہ کمپنی اپنے ملازم سے کیا کام لیتی ہے اور اِس ادارے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ اگر وہ اپنے ملازم سے خلافِ شریعت کام کرواتی ہے یا اِس کے مقاصد و اہداف غیر شرعی ہیں تو ایسے اِدارے میں ملازمت جائز نہیں ، البتہ اگر ملازم سے کوئی خلافِ شریعت کام نہیں لیا جاتا اور مقاصد بھی غیر شرعی نہیں ہیں تو ایسے اِدارے میں ملازمت کرنا جائز ہے۔

                صورتِ مسئولہ میں کسی سیکورٹی کمپنی میں کمپیوٹر آپریٹر کی ملازمت کرنا فی نفسہ جائز ہےالبتہ کمپنی میں اگر کوئی ناجائز کام ہوتے ہیں تو اِن سے اپنے آپ کو بچایا جائےاور اگر کوشش کے باوجود مجبوراً کوئی ناجائز کام کرنا پڑ جائے تو اِس پر توبہ اِستغفار کیا جائے اور اگر باربار گناہ کے کام میں ملوث ہونا پڑتا ہو تو دوسری جگہ ملازمت تلاش کر کے اِس کو چھوڑ دیا جائے۔

 

وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام عن النواس بن سمعان الأنصاري قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس۔ (التفسير المظهري، سورة المائدة آيت:3، ج:3، ص:19)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر من غير أن يستحق هو على الأجير شيئا إذ المبادلة لا تكون إلا باستحقاق كل واحد منهما على الآخر، ولو استحق عليه للمعصية لكان ذلك مضافا إلى الشارع من حيث إنه شرع عقدا موجبا للمعصية تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا ولأن الأجير والمستأجر مشتركان في منفعة ذلك في الدنيا فتكون الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك ذكره في النهاية معزيا إلى الذخيرة، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه وفي المحيط في كتاب الاستحسان إذا أخذ المال من غير شرط يباح۔ (تبیین الحقائق، باب الاجارۃ الفاسدۃ، ج:۵، ص:۱۲۵)


فتویٰ نمبر : 3014/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں