بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رمضان میں وتر کی امامت


سوال

 رمضان میں جس امام نے عشاء کی نماز کی امامت کروائی ہے،اس کے پیچھے وتر پڑھنا افضل ہے یا جس نے تراویح پڑھائی ہے؟ مسجد انتظامیہ زبردستی تراویح پڑھانے والےحافظ صاحب سے وتر کی امامت کروانا چاہتے ہیں، اس صورت میں صحیح حکم کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

جواب

          اگر مسجد میں پہلے سے امام مقرر ہے اور عشاء کی فرض نماز میں اس نے امامت کی ہے تو وتر کی امامت بھی اسی کو کرنی چاہیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرض اور وتر خود پڑهاتے تهے اور تراويح  حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پڑھاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض پڑھانے والے امام کا  وتر پڑھانا بہتر ہےالبتہ اس کی اجازت سے تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب وتر کی امامت کر لیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، جب دونوں طرح جائز ہےتو خواہ مخواہ اس مسئلہ کو افتراق و انتشار کا باعث نہ بنایا جائے۔

 

وإذا جازت التراويح بإمامين على هذا الوجه جاز أن يصلي الفريضة أحدهما ويصلي التراويح الآخر وقد كان عمر - رضي الله تعالى عنه - يؤمهم في الفريضة والوتر وكان أبي يؤمهم في التراويح۔ ( الفتاوى الهندية، فصل في التراويح، ج: 1، ص: 129)


فتویٰ نمبر : 9084/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں