بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

خیالات فاسدہ و وساوس شیطانیہ پر مؤاخذہ


سوال

جب بھی میں کوئی کام کرنے لگتا ہوں تو مجھے بہت غلیظ خیالات آتے ہیں مثلا کوئی چیزکھاتے وقت یا کھانے کا ارادہ کرنے کے بعدیا کپڑا پہنتے وقت یا موبائل استعمال کرتے وقت،کیا مجھے ان چیزوں کو چھوڑدینا چاہیئےان میں سے کوئی کام حرام ذرائع سے نہیں کیا گیا،البتہ یہ خیالات بہت غلیظ اور کفریہ ہیں یہاں تک کہ کوئی مسلمان سوچ  بھی نہیں سکتااگر میں وہ کام کرلوں تو مسلسل آتے رہتے ہیں؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سےغیر اختیاری طور پر آنےوالےخیالات فاسدہ ووساوس پرشرعا کوئی مؤاخذہ نہیں ہے،جب تک ان کے مطابق کوئی عمل صادرنہ ہوجائے۔

              اس لیےصورت مسئلہ کے مطابق جہاں تک ممکن ہوان خیالات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے،البتہ جو خیالات ووسوسےغیر اختیاری طور پر آتے ہیں ان کی بالکل پرواہ نہ کی جائےشرعاًان پر کوئی مواخذہ نہیں بلکہ ان خیالات کی وجہ سے طبیعت کو جو تکلیف ہوتی ہےاسکا ثواب بھی ملتا ہے۔

 

عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: «وقد وجدتموه؟» قالوا: نعم، قال: «ذاك صريح الإيمان»-(صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب بيان الوسوسه من الايمان، ج:1، ص:،حديث:357)

قاله الطيبي من أن الوسوسة ضرورية واختيارية فالضرورية ما يجري في الصدور من الخواطر ابتداء ولا يقدر الإنسان على دفعه فهو معفو عن جميع الأمم والإختيارية هي التي تجري في القلب وتستمر وهو يقصد ويعمل به ويتلذذ منه كما يجري في قلبه حب امرأة ويدوم عليه ويقصد الوصول إليها وما أشبه ذلك من المعاصي فهذا النوع عفا الله عن هذه الأمة خاصة تعظيما وتكريما لنبينا عليه الصلاة والسلام وأمته إليه وينظر قوله تعالى ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكوةالمصابيح، كتاب الايمان باب في الوسوسه، ج:1، ص:228)


فتویٰ نمبر : 4997/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں