بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کھاد کی بوریوں میں موجود انعامی پرچی کو کم قیمت میں فروخت کرنا


سوال

کھاد کی بوریوں سے ایک  سبسڈی کی پرچی نکلتی ہےجس پہ کھاد خریدنے والے کو فی پرچی ہزار روپے ملتے ہیں یہ انعام وصول کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے، اس لیے پرچی کا مالک وہ پرچی کسی اور شخص کوسستے داموں فروخت کردیتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس قسم کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

          کمپنی کا اپنی مصنوعات کی پیکنگ میں پرچی رکھنے کا شرعی حکم انعام اور تبرع کی ہے جو شرعاً جائز ہے ،  شرعی لحاظ سےاس ٹوکن میں  موجود رقم کو وصول کرنے سے پہلے اس ٹوکن کوکسی دوسرےشخص  کے ہاتھوں فروخت کرنا کئی وجوہ سے جائز نہیں:

1:ایک تو اس میں غرر ہے کہ بائع نے تو پیسے ابھی لے لیے اور اس کے عوض جو پیسے  مشتری کوملنے ہیں وہ موہوم اور محتمل ہیں؛معلوم نہیں کہ ملیں گے یا نہیں۔

2: دوسری وجہ یہ کہ اس  ٹوکن میں درج شدہ رقم کو اگر وصول کیا جائے اور اسے کسی دوسرے شخص کے ہاتھوں کم یا زیادہ رقم میں فروخت کیا جائے تو یہ جائز نہیں شرعاً یہ سود کے زمرے میں آتا ہے ،چونکہ مذکورہ   ٹوکن اس میں درج شدہ رقم  کی نمائندگی کرتاہے اس لیے اسے بھی موجود رقم سے کم یا زیادہ رقم میں فروخت کرنا جائز نہیں۔

         لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق کھاد کے بوریوں  میں سے  جو سبسڈی کی پرچی نکلتی ہے جس پہ کھاد خریدنے والے کو فی پرچی پر ہزار روپے ملتے ہیں اس پرچی کو ہزار روپے سے کم قیمت میں کسی دوسرے شخص کےہاتھوں فروخت کرناجائز نہیں شرعاً یہ سود کے زمرے میں آتا ہے،البتہ یہ پرچی اور اس میں  درج شدہ ایک ہزار روپے کا  وصول کرناخریدارکے لیےجائز ہے۔

 

وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد۔(ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب القضاء، مطلب في الكلام علی الرشوۃ والهدية،ج:8، ص:35)

وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية فيقول له رجل: بعتني جامكيتك التي قدرها كذا بكذا، أنقص من حقه في الجامكية فيقول له: بعتك فهل البيع المذكور صحيح أم لا لكونه بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح قال: مولانا في فوائده: وبيع الدين لا يجوز ولو باعه من المديون۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، مطلب فی الجامکية، ج:1، ص:21)

ولكن المشكلة إنما تحدث من جهة أن الكمبيالة قد أصبحت اليوم آلة قابلة للتداول وإن حامل الكمبيالة، وهو الدائن الأصيل ربما يبيعها إلى طرف ثالث بأقل من المبلغ المكتوب عليها، طمعا في استعجال الحصول على المبلغ قبل حلول الأجل. وإن هذا البيع يسمى خصم الكمبيالة فكلما أراد حامل الكمبيالة أن يتعجل في قبض مبلغها، ذهب إلى شخص ثالث، وهو البنك في عموم الأحوال، وعرض عليه الكمبيالة، والبنك يقبلها بعد التظهير من الحامل، ويعطى مبلغ الكمبيالة نقدا بخصم نسبة مئوية منها۔

وإن خصم الكمبيالة بهذا الشكل غير جائز شرعا، إما لكونه بيع الدين من غير من عليه الدين، أو لأنه من قبيل بيع النقود بالنقود متفاضلة ومؤجلة، وحرمته منصوصة في أحاديث ربا الفضل۔(  بحوث في قضايا فقهيه معاصره، حکم البیع بالتقسیط، ج:2، ص:103)


فتویٰ نمبر : 3022/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں