بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں پرخريدے ہوئےپلاٹ پرزكوة كاحكم


سوال

ميراايک پلاٹ  حکومت کی اسکیم میں انسٹالمنٹ پرنکلا ہے جس کی ادائیگی تین سالوں میں قسطوار کرنی ہے ،میں نےسیونگ کی نیت سے خریدا ہے،میرایہ پلاٹ2021میں نکلاتھا،جس کی بیعانہ رقم جولائی2020میں اداکی تھی تو اب  اس میں زکوۃ کا  کیاحکم ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ ہاوسنگ سوسائٹی  کی طرف سے جس خریدار کے نام پلاٹ کی الاٹمنٹ کی جاتی ہےاور اس کے نام فائل کر دی جاتی ہے، تو صحت عقدکے لیےضروری ہے کہ خریداری کے وقت پلاٹ کی مکمل حقیقت واضح کردی گئی ہو مثلاًپلاٹ کے حدود اربعہ،محل وقوع اس طور پرمتعین ہو کہ  خریدارنقشے کی مدد سے گراونڈ پرپلاٹ کی حدود کا اندازہ لگا سکتا ہوکہ وہ کس جگہ ہےتاکہ اس میں کسی نزاع کا اندیشہ نہ ہو،اس صورت میں پلاٹ کی خرید وفروخت جائز ہےاور خریدار شرعاً اس پلاٹ کا مالک بن جاتا ہے،لہذا اگر تجارت کی نیت سے خریدا ہو تو اس کو اموال زکوۃمیں شمار کیا جائے گا۔

             صورت مسؤلہ کےمطابق اگر پلاٹ کی حقیقت اس طور پر واضح ہوکہ اس کے حدود اربعہ متعین ہوں اور اس کی تعین میں نزاع کا اندیشہ نہ  ہوتواس کے خریدنے کے بعد یہ شخص اس کا مالک بن چکاہے،لہذا   اگرتنہا یہ پلاٹ یا دوسرے موجود سونا یا چاندی یا نقدی یا مال تجارت  کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہےتو اس  میں زکوۃ واجب ہو گی ،البتہ پلاٹ میں زکوۃ کی ادائیگی   قیمت خرید کے حساب سے نہیں ہوگی بلکہ موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی ۔

 

(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) (نام ولو تقديرا) (فلا زكاة على مكاتب) لعدم الملك التام،إ۔۔۔ولا فيما اشتراه لتجارة قبل قبضه۔(تنويرالابصارمع الدرالمختار، مطلب الفرق بين السبب والشرائط والعلة، ج:3، ص:174)

ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة، فصل في شرائط الفرضيه، ج::2، ص:383)

 وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله(هنديه، كتاب الزكوة ، فصل مسائل شتي، ج:1، ص:143)

ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي عزمية.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب البيوع، مطلب:المعتبر ماوقع عليه العقار، ج:4، ص:454)


فتویٰ نمبر : 9133/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں